واقعہ جنگِ احد میں صحابہ سے مشورہ اور تدریجی علومِ غیبیہ
(۸) جناب مولوی وجیہ الدین صاحب رامپوری کا یہ کہنا ہے کہ حضور نے جنگ اُحد میں رائے لی حضرت ابوبکر صدیق سے حضرت عثمان غنی حضرت علی سے ان سے رائے لی تو انہوں نے کہا ان سے کچھ لے کے چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر سے رائے لی تو انہوں نے کہا کہ ان کے عزیزوں کو انہیں کے ہاتھ سے قتل کرادیا جاوے، اللہ کو حضرت عمر کی بات پسند آئی حضور پاک کانپ گئے مولوی وجیہ الدین صاحب کا کہنا ہے۔اس بارے میں کیا حکم ہے؟
(۸) واقعہ درست ہے مگر اس سے وجیہ الدین و دیگر وہابیہ کافی علم غیب کی سند لا نا جہل ہے کہ کوئی سنی اس کا مدعی نہیں کہ تمام قرآن کے نزول سے پہلے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو جملہ ما کان و ما یکون عطا کیا گیا بلکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو تدریجا علوم غیبیہ دئے گئے اور جب نزول قرآن مکمل ہو گیا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو جملہ ما کان و ما یکون کا علم حاصل ہوا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم