وہابی کی نماز جنازہ پڑھنے اور اللہ کے لیے دیو یا ڈرات کا لفظ استعمال کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (1) میرے محلہ میں ایک وہابی بد عقیدہ مر گیا جن اشخاص نے جان بوجھ کر اس وہابی کے جنازے کی نماز پڑھی اور جن لوگوں نے اس کے کفن دفن میں شرکت کی ان پر شرعاً کیا حکم ہے؟ اور ان لوگوں کے ساتھ کھانا پینا سلام و کلام کرنا تعلقات رکھنا کیسا ہے؟ (۲) زید کی کئی چیز نقصان ہوگئی زید نے اپنی ہندی زبان میں کہا فلاں کے یہاں اتنی چیز ہے انکی ایک نقصان نہیں ہوتی ہے ان سے ڈیوڈ رات ہیں۔ دیہات میں بعض مرد عورت دیو سے مراد باری تعالیٰ کو لیتے ہیں لہذا ایسالفظ استعمال کرنے والے پر شرعاً کیا حکم ہے؟ بالتفصیل اور عام فہم جواب مرحمت فرمائیں۔ (۳) غیر قاری کے پیچھے قاری کی نماز ہوگی یا نہیں۔ بینوا تو جبروا المستفتی محمد نعیم بلرامپوری ، ساکن محله چمن گنج کا نپور
الجواب: (1) وہابیہ زمانہ پر حکم کفر ہے۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنا حرام بدکام بلکہ بحکم فقہاء کفر ہے کہ کافر کیلئے دعاء مغفرت مستلزم تکذیب قرآن ہے۔ قرآن فرماتا ہے: (1) إِنَّ اللهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ ) سورة النساء: ۴۸ اور فرماتا ہے: إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ در مختار میں ہے: الحق حرمة الدعاء للكافر (۲) رد المحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به (۳) جولوگ اسکی نماز جنازہ میں شریک ہوئے ان پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کریں اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اللہ تعالیٰ کا نام دیور کھنا حرام ہے بد کام کفر انجام ہے اور خدا کو یہ کہنا کہ ڈرات ہیں کفر ہے۔ زید پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہے تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں جبکہ ایسی خطا کرے جو مفسد نماز ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ