بیوی کو خدا کہنا، اللہ کا رسول کو سجدہ کرنا، چرمِ قربانی مسجد میں لگانا اور دیگر متفرق مسائل
” تمہاری بیوی تمہارا خدا ہے۔ اور اللہ تعالی نے رسول کریم صلی یہ تم کو سجدہ کیا“ یہ سب کفری بول ہیں ! عالی جناب مکرم محترم مفتی اعظم صاحب دام مجد کم و کرامتکم ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته (1) بعده عرض یہ ہے کہ مولوی محمد نظام الدین صاحب نے کہا ہے کہ اعلیحضرت کا دستخط کردہ ” عرفان شریعت حصہ دوم صفحہ ۳۶ میں ہے کہ چرم قربانی مسجد میں لگا نا جائز ہے ۔ اب ہم اس پر چلتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہوا یا نہیں؟ (۲) ہمارے یہاں کھانے ایک آدمی آتا ہے۔ پتہ پوچھنے سے کہتا ہے پتہ کی کیا ضرورت میں ایک مستان ہوں نام جلال الدین (الف) کہتا ہے تمہاری بی بی تمہارا خدا ہے (ب) اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا ہے یہ سب معرفتی کلام ہے ہم کو یہ نا پسند اور تعجب معلوم ہوتا ہے۔ (۳) سورہ ناس میں سورہ فلق سے زیادہ حرف ہے ( نقل نظامی قرآن شریف ) اب سورہ فلق کے بعد پوراسورہ ناس نماز میں پڑھنے سے واجب ترک ہوگا یا نہیں؟ اگر واجب ترک نہ ہو تو کیوں نہیں؟ نماز میں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک ہی سورہ پڑھنا کیسا ہے؟ (۴) مسجد کے وضو کا برتن ٹین کا بنایا ہوا ٹوٹ گیا ہے میٹھن پھوٹا ہو گیا ہے۔ پرانی مسجد کی اینٹ وغیرہ بیچ کر اسی مسجد میں لگانے کیلئے بیچنا درست ہے یا نہیں؟ از روئے مہربانی حتی الامکان جلد تر فتویٰ دیگر نادانوں کو ممنون و مشکور فرمادیں۔
الجواب: (1) ٹھیک ہوا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: محمد قمر الدین کھلا پوسٹ اثر لکھی پورضلع مالد و چنم بنگال (۲) وہ شخص جاہل مسخرہ شیطان ہے اور اس کے وہ بول سخت کفری بول ہیں ان پر کان دھر ناروا نہیں اور اس کی صحبت سے سخت پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) دوسری رکعت کا پہلی سے زیادہ لمبی ہونا مکر وہ وخلاف سنت ہے مگر یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ بہت زیادہ لمبی کر دے اور تھوڑی زیادت میں حرج نہیں اور ایک ہی سورت پڑھنا کچھ مضائقہ نہیں رکھتا جبکہ اسی کے معین ہونے کا اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) درست ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله