خدا کی حکم عدولی اور رسول کی بے ادبی کے فرق سے متعلق کلمات
" خدا کی حکم عدولی کرنے والا راندہ درگاہ نہیں ہوتا ہے لیکن رسول کی بے ادبی کرنے والا راندہ درگاہ ہوتا ہے" کہنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں کہ: (۱) زید ممبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عام لوگوں کو خطاب کرتا ہوا کہتا ہے کہ خدا کی حکم عدولی کرنے والا راندہ درگاہ نہیں ہوتا ہے لیکن رسول کی بے ادبی کرنے والا راندہ درگاہ ہوتا ہے پروردگار عالم کی حکم عدولی سے عزازیل راندہ درگاہ نہیں ہوا لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کی اس وجہ سے راندہ درگاہ ہوا۔ (۲) زید نے یہ بھی کہا سورۃ قل ھو اللہ احد میں وحدانیت کا ذکر ہے مگر مرتے وقت اگر مرنے والے کے سامنے قل هو الله احد پڑھا جائے تو اس کی روح نہیں نکلے گی مگر سورہ یسین جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہے پڑھنے سے روح نکل جائے گی۔ (۳) زید یہ بھی کہتا ہے کہ اگر خدا رب محمد نہ ہوتا تو خدا کی قسم میں خدا کو خدا نہ کہتا۔ (۴) زید مذکور یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی قسم نماز و روزہ کوئی چیز نہیں ہے محبت رسول کے آگے۔ (۵) ایک مسلمان کی نماز جنازہ اس میت کے ولی کی اجازت سے پڑھی گئی اور ولی نے بھی سب لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی اس کے بعد زید نے یہ حکم دیا کہ بار بار اس میت کے جنازہ کی نماز پڑھی
جاسکتی ہے چنانچہ بار بار پڑھی گئی زید کے ان اقوال سے سنی مسلمانوں میں سخت بے چینی ہے اور ایک فتنہ عظیم برپا ہو گیا ہے لہذا از روئے شریعت مقدسہ حکم صادر فرمایا جائے کہ زید کے یہ اقوال کفریہ ہیں یا نہیں؟ اور ان اقوال کے قائل کے لیے شرعاً ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: محمد عالمگیر خاں ،صدر المدرسین دارالعلوم غوشیه سیوان الجواب: (1) فی الواقع اگر صورت مسئولہ میں جو الفاظ درج ہوئے ہیں وہ شخص مذکور سے یہ ثبوت شرعی منقول ہیں تو ان الفاظ کی بنا پر اس شخص پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح ( جبکہ بیوی رکھتا ہو ) لازم ہے بشرطیکہ ان الفاظ کی کوئی تاویل صحیح منقول شرعا نہ بتا سکے ورنہ احتیاطاً تو بہ وتجدید ایمان ضرور کہ صریح ان الفاظ کا بہت سخت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید مذکور کا دعویٰ مذکور بے ثبوت شرعی قابل قبول نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ الفاظ بھی بہت سخت ہیں اور ان پر بھی بغیر تاویل صحیح شرعی تو به وتجدید ایمان لازم در نہ احتیاطاً۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) زید مذکور کی اگر مراد ان الفاظ سے یہ ہے کہ نماز ، روزہ بے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ نہیں تو یہ حق ہے جس پر کوئی غبار نہیں بے شک بے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عبادت مقبول نہیں بلکہ وہ عبادت ہی نہیں اس پر قرآن واحادیث ناطق ہیں اور اگر معاذ اللہ نماز وروزہ کو فرض نہیں جانتا اور صرف محبت کو کافی جانتا ہے تو تو بہ تجدید ایمان کے سوا کوئی چارہ نہیں، تجدید نکاح بھی کرے اگر بیوی والا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مذہب حنفی میں جب کہ ولی میت نماز جنازہ پڑھ لے اس کے پڑھنے کے بعد تکرار نماز جنازہ جائز نہیں کما فی جمیع الکتب زید نے غلط فتویٰ دیا ہے، یہ شریعت پر افترا ہے اور حرام ہے۔ (1) حدیث میں ہے: ،، من افتی بغیر علم لعنته ملائكة السماء والارض “ (۱) جامع الصغير مع فيض القدير، ج ۶، ص ۱۰۱ ، حدیث ۸۴۹۱ ، حرف الميم، دار الكتب العلمية بيروت جو بے علم فتوی دے اسے زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتب فقیر محمد اختر رضا خاں قادری غفرلہ ۱۹ ؍رجب المرجب ۱۳۹۶ھ