مسلمانوں کے بیٹھنے کی جگہ کو دارالندوہ کہنا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک ایسی جگہ یا ایسی مجلس جہاں ایسے مسلمان صحیح العقیدہ بیٹھتے ہیں جس کے مسلمان ہونے یا ان کے عقائد میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ، زید صرف بغض و حسد کی بنا پر ایسی جگہ کو دار الندوہ بتاتا ہے اور کہتا ہے یہ دارالندوہ کہ مکہ میں تھا اس کا سینٹر لکھنو میں بھی ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ مسلمان صحیح العقیدہ کے بیٹھنے کی جگہ یا ان کی گفتگو کی مجلس کو دارالندوہ جہاں کفار مکہ نے سرکار دو جہاں کے قتل کا مشورہ کیا تھا قرار دینا از روئے شرع جائز ہے یا نا جائز ہے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا جائز ہے چونکہ دارالندوہ کا معنی مجلس مشاورت ہے اور عمرو کا کہنا ہے کہ اگر دارالندوہ سے وہی دارالندوہ مراد ہے جہاں کفار مکہ نے سرکار کے قتل کا مشورہ کیا تھا تو یہ نا جائز ہے ایسے کہنے والے پر تو بہ وتجدید ایمان ضروری ہے تو کیا عمرو کا یہ قول صحیح ہے بعض حضرات عمرو کے اس قول کی تردید کرتے ہیں، یہ تر دید صحیح ہے؟ جواب باصواب سے آگاہ فرمائیں۔ حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ کی تصدیق ضروری ہے فقط والسلام مولانا منصور احمد عزیزی صدر مدرسہ سراج العلوم مہراج گنج، ہر مہر نبی ضلع اور تنگ آباد، بہار
الجواب: فی الواقع اگر زید اس جگہ کو بہ طور سب و دشنام دار الندوہ بتاتا ہے تو اشد گنہ گار حق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہے اس پر تو بہ لازم ہے۔ اور بلا وجہ شرعی جس جس کی دل آزاری کی ان سب سے معافی چاہنا بھی ضرور اور اگر ان لوگوں کو واقعی کا فر جانتا ہو تو خود کا فر ہے تو بہ و تجدید ایمان کرے اور تجدید نکاح بھی جبکہ بیوی رکھتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم ی تفصیل حکم کی اس صورت میں ہے جبکہ واقعی سچے سی صحیح العقیدہ لوگوں کی مجلس کو دارالندوہ کہا ہو اور اگر اس نے ندویوں کی مجلس کو دار الندوہ کہا تو اس پر کیا الزام ہے۔ ان کی محفل تو دارالندوہ ہے ہی خود انہوں نے اپنے لیے یہ لفظ چھانٹا اور اس کی طرف نسبت کر کے خود کو ندوی کہتے ہیں اور ان کا سنی بننا محض فریب ہے۔ ندوہ ہر کافر سے صلح و اتحاد فرض کرتا ہے جو ہر گز سنت نہیں بلکہ کفر ہے اسی لیے علمائے حرمین نے انہیں کا فر فر مایا ۔ تفصیل کے لئے ”فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین “ و دیگر رسائل علماء اہل سنت دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام بریلی شریف یکم رجب المرجب ۱۳۹۸ھ