وہابیوں سے میل جول، ریڈیو کی خبر پر عید منانے اور بہار شریعت کے انکار کا حکم
ہے۔ اسی سے نماز اور روزہ پڑھتا ہے اس کے یہاں سنت کے لوگ بھی کھانا پینا کرتے ہیں اور آئندہ کے لئے سنت و جماعت کے لئے کیا حکم ہے؟ اکرم خاں جی نے اپنے لڑ کا سلہو ر خاں کی شادی وہابی کی لڑکی سے کر کے لایا جو اس کے گھر میں موجود ہے ،سنت جماعت کے لوگ بھی اس کا کھانا پینا کرتے ہیں، آئندہ کے لئے کیا حکم ہے؟ عبد الجش وہابی کے بڑے باپ کے چار بھائیوں کی اولا در بہتی ہے جن کے اندر سوڈیڑھ سو کے قریب ہیں وہابی عبد انجنش ان کے یہاں شادی وغیرہ میں آتا جاتا ہے اورسنت جماعت کے لوگوں کو بلاتے ہیں وہ سب لوگ بھی آتے ہیں آئندہ کے لئے سنت و جماعت کے لئے کیا حکم ہے؟ (۲) ہمیشہ ہمارے یہاں رمضان شریف کی عید کا جھگڑا پڑتا رہتا ہے اور عبد اللہ بخاری اور پاکستان وغیرہ ریڈیو سے عید منا لیتے ہیں روزہ وغیرہ سب چھوڑ دیتے ہیں وہ محلہ ہی رسالہ کا محلہ ہے یہ لوگ ریڈیو سے عید منا لیتے ہیں دوسرے محلہ والے چاند کے مطابق عید کرتے ہیں دونوں پر کیا حکم عائد ہوتا ہے؟ دیوکا کھانا پینا درست ہے یا نہیں؟ شرابی کا کھانا پینا کیسا ہے؟ اور بیاج لینے والے کا کھانا پینا کیسا ہے؟ میرے پاس بہار شریعت کے سترہ حصے ہیں سترہ حصوں کو میں نے پڑھنے کے لئے اشتیاق علی کو دیے،لہذ استرہ حصے پڑھ کر مجھ کو واپس دی اور یہ کہا کہ میں سترہ حصوں کو نہیں مانتا اس کے لئے کیا حکم ہے؟ المستفتی : یسین خاں پٹھان، سردا پوسٹ سرادا، ضلع اودے پور ، ( راجستھان)
الجواب: (1) سوال زید و عمر و وغیرہ ناموں سے کرنا چاہئے اور مسئول عنہ کا نام تحریر نہ کرنا چاہئے کہ یہی ادب سوال ہے۔ زواجر میں ہے: وو و الافضل ان يبهمه (1) ،، اب جو احکام تحریر ہوں گے وہ اس صورت پر ہیں کہ سوالات مطابق واقعہ ہوں۔ وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں، اُن سے میل جول اور ان کے یہاں کھانا پینا اور ان سے (1) الزواجر عن اقتراف الكبائر الكبيرة الثامنة والتاسعة والاربعون بعد الماتين ، ج ۲، ص ۲۹ ، دار المعرفة بيروت شادی بیاہ سب حرام بد کام بدانجام ہے۔ قال تعالیٰ: وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) تفسیر احمدی میں ہے: الظلمين يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع . اور وہابیہ سے شادی بیاہ کا وبال ان سے میل جول سے زیادہ سخت اور ایمان کے لئے سخت زہر ہے کہ صحبت معمولی بہت اثر کرتی ہے تو بد مذہب سے شادی ہو کر صحبت دائمی اور تعلق قلبی کس قدر غارتگر ایمان ہو گا ؟ اسی لئے سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام المدار نے ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کھانے پینے، ان کے ساتھ نماز پڑھنے ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ممانعت فرمائی ۔ قال علیہ السلام : لا تجالسوهم ولا تواكلوهم ولا تشاربوهم ولا تناكحوهم واذا مرضوا فلا تعودوهم واذا ماتو افلاتشهدوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم (۳) پھر ان سے شادی بیاہ حرام ہی نہیں بلکہ باطل محض ہے کہ مرتد کا نکاح نہ اپنے مثل مرتد سے نہ کافر اصلی سے نہ مسلمان سے غرض عالم میں کسی سے صحیح نہیں ۔ ہندیہ میں ہے: ولايجوز للمرتد ان يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولاكافرة اصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد كذافى المبسوط () ان لوگوں پر وہابیہ سے میل جول چھوڑ نا فرض ہے اور وہ لڑکی جس سے سنی کا نکاح ہوا، اگر وہابیہ ہے یا وہابیہ کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتی ہے تو انہیں وہابیہ کی طرح مرتدہ ہے، اس سے نکاح باطل محض ہوا اور جتنی قربت ہوئی ، سب زنا ، اس سے فور اعلیحد گی فرض ہے۔ (۲) رؤیت ہلال کا ثبوت شہادت شرعیہ یا استفاضہ خبر سے ہوتا ہے۔ ریڈیو، ٹیلیفون وغیرہ سے رویت ثابت نہیں ہوتی تو اس کی خبر پر روزہ رکھنا عید کرنا حلال نہیں، حدیث شریف میں ہے: صومو الرويته وافطر و الرويته چاند دیکھ کر روز و ر کھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ واللہ تعالی اعلم دیوث و شرابی اور مسلمان سے زیادہ لینے والا سخت فاسق ہے ان سے میل جول منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اگر یہ واقعہ ہے تو وہ منکر شرع مبین ہے، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۳۰ / ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ