سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین اور کھچڑے کے متعلق گستاخانہ کلمات کا حکم
حقانی ، حرکات شیطانی، زبان دہقانی، خیالات غلطانی، اور گستاخی علمائے اہلسنت اور عاشقان سنت کی کی، منجملہ بہت سی خرافات کی، یہ بھی کہا: ” کاٹھیا واڑ کے ایک مجذوب کی جھوٹی کھچڑی کھا کر ہم قوال سے ایک واعظ بے مثل ہو گئے، دودن میں چندر پور میں دھوم مچادی، انشاء اللہ ناگپور میں آٹھ دن میں قیامت بر پا کر دیں گے“۔ پھر وہ یوں بکا: ”میں نے زندہ پیر کی کھچڑی کھائی اور زندہ علم پایا، امام حسین کا کھچڑا کھاتے ہو، مردوں کا کھچڑا کھا کر تم مردہ دل ہو گئے ۔ سوال یہ ہے کہ اس کم بخت کے دماغ میں کھچڑی کھا کر صحیح بخاری اور صحاح ستہ اتر گئیں اور اتنا عظیم کام ہوا تو یہ معمولی کام کیوں نہ ہوا کہ تلفظ ٹھیک ہو جاتا۔ ”مذہب کو معجب“ کہتا ہے اور ظہر کو ” جو ہر کہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ من گھڑت بات ہے، لوگوں کو الو بنانا چاہتا ہے اور بھی نیت میں خرافات ہیں جو کہ درج کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ذاتی خیال ناچیز کا یہ ہے کہ کھچڑی میں لونگ کی کمی تھی ورنہ تلفظ بھی درست ہو جاتا۔ علمائے دین وشرع متین سے اس سلسلہ میں اس گستاخانہ جملہ پر فتوی طلب ہے ممکن ہو تو میرا یہ خط اعلی حضرت“ میں شائع فرمادیں، اور ایک کاپی بندہ ناچیز کو بھیج دیں، بذریعہ وی پی میں سالانہ خریداری کی کل رقم شامل ہو۔ زیادہ کیا عرض کروں؟ خون کے آنسو ٹپک رہے ہیں۔
الجواب: ناگپور میں اس خبیث نے یہ بکا، بلا شبہ یہ جملہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صریح تو ہین ہے اور یہیں سے اس کی پیر پرستی کا حال ظاہر کہ نری نام کی ہے اور حقیقت میں وہ دیوبندیوں کا کھلا ایجنٹ ہے اور لطف یہ ہے کہ دیوبندی علماء نے اسے کا فر کہا ہے، پوسٹر ” پالن مسلمان نہیں ہے دفتر سے منگا کر دیکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹؍ جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ الجواب صحیح و اللہ تعالی اعلم ۔ بہار المصطفی قادری