وہابی کی صحبت سے احتراز فرض ہے اور ان سے میل جول کا شرعی حکم
وہابی کی صحبت سے احتراز فرض ” جو ان سے دوستی کرے وہ انہیں میں سے ہو جائے“ قرآن پاک کا اعلان ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین، اہل سنت ایمان مبین : مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے کو سنی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے محبت ،صحبت اور رشتہ یا علاج سے فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں جو قرآن کریم، حدیث مبارکہ کی شان و تعظیم میں بغاوت کرتے ہیں یعنی نمبر چو میں سے یاد کئے جاتے ہیں، کیا سنی حضرات ان خرافاتی لوگوں سے جو اوپر بیان کیے گئے، تعلق قائم کر کے اپنے مذہب کو اور ایمان کو سلامت رکھ سکتے ہیں ؟ ارشاد فرما ئیں۔ المستفتی : صفی اللہ خاں، کرانہ مرچنٹ بلسنڈا، پوسٹ بلسنڈا، ضلع پیلی بھیت
الجواب: اگر وہ لوگ فی الواقع وہابی ہیں تو ان کی صحبت سے سخت احتر از فرض ہے اور ان سے میل جول دین کے لئے سخت زہر ہے۔ قال تعالیٰ: وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ یعنی جو اُن سے دوستی کرے وہ انہیں میں سے ہو جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ/ در سفر