جماعت اسلامی کے عقائد، جماعت اسلامی کے کسی فرد کی امامت اور تعظیم کا حکم
مسئلہ ۲۱۱ ۲۰ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان دین مسائل ذیل میں کہ: (1) جماعت اسلامی کو اس نام سے موسوم کرنا کیسا ہے؟ (۲) اس عقیدہ کے آدمی نے اگر نماز جنازہ پڑھائی تو کیا حکم ہے؟ (۳) نکاح پڑھوایا تو کیسا ہے؟ بحوالہ کتب مطلع فرمائیں۔ المستفتی: محمد عبدالرشید موضع جگر، بدایوں/ ۲۸ / رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ
الجواب: (1) اس جماعت کو اسلامی کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کالے بھجنگ کو پری چہرہ کہہ دے یا کھلے دشمن اسلام کو خیر خواہ اسلام سمجھ لے، ان کے عقائد سخت مخالف اسلام ہیں، مودودی صاحب کی ایک ہی عبارت دیکھئے جو تقسیمات میں لکھی کہ قرآن وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں، یہ کھلا حدیث کا انکار ہے جو کسی اسلام کے نام لیوا سے متصور نہیں، مگر یہ انکار کریں اور رہیں مسلمان ۔ اسی ایک عبارت سے اندازہ لگا لیجئے کہ یہ جماعت کیسی جماعت ہے۔ ع قیاس کن زگلستان او بهارش را ان کے عقائد کی تفصیل کے لئے ” مودودی کا الٹا مذ ہب اور اسلامی جماعت اور شیش محل“ وغیرہ کتب علمائے اہلسنت دیکھیں یہاں اتنی بات قابل ذکر ہے کہ وہ دیابنہ جنہیں تو ہین خدا و رسول کی وجہ سے بدعقائد جان کر علمائے حرمین شریفین اور سارے جہاں کے علما نے ایسا کافر کہا کہ : ”من شک فی کفره و عذابه فقد کفر ) جو اُن کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ خود کافر ہے، دیکھوحسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ انہیں یہ مسلمان جانتے ہیں تو خود اُن کے بھائی برادر ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان کی اقتدا اصلاً صحیح نہیں۔ کفایہ میں ہے: الكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) فتح القدیر میں ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۳) در مختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا “(۲) بلکہ ان کے عقائد کفریہ جانتے ہوئے امام بنانا کفر ہے کہ تعظیم کا فر کی کفر ہے۔ اسی در مختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر “(۵) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ی فعل نا جائز ہے مگر مودودی نے نکاح پڑھایا تو نکاح ہو جائے گا۔ ہندیہ میں ہے: ”تجوز وكالة المرتد بان وكل مسلم مرتد او كذا لو كان مسلما وقت التوكيل ثم ارتد فهو على وكالته الا ان يلحق بدار الحرب فتبطل وكالته، كذا في البدائع ( ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ے رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی