وہابیوں، دیوبندیوں اور تبلیغیوں کے عقائد اور ان کے پیچھے نماز اور دیگر معاملات کا شرعی حکم
(1) وہابیوں دیو بندیوں اور تبلیغیوں پر شریعت کا کیا حکم ۔ (۲) ان تمام فرقوں کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ (۳) ان تمام کو امام بنانا کیسا ہے؟ (۴) ان کے پیچھے جتنی نماز پڑھی گئی اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۵) زید کہتا ہے کہ عمر تبلیغی ہے تو کیا ہوا لیکن یہ حاجی بھی ہے اس لئے قابل احترام ہے اور ان کے پیچھے نماز کا ثواب تو مل جائے گا۔ تو زید کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ (1) ان کی میت کو غسل دینا ان کی میت میں جانا اور ان کے جنازے کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۷) ان کا ذبیجہ کھانا جائز ہے یا نا جائز ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مع دلائل جواب عنایت فرمائیں! المستفتی: محمد عبد الرحمن رضوی و جناب عبدالشکور صاحب، کان جوری ضلع آ کلامہاراسٹر
الجواب: (۱) نرے وہابی جو محض توسل استمداد و ایصال ثواب وغیرہ امور کو اپنی جہالت سے شرک بتاتے ہیں، گمراہ ہیں اور اکثر فقہاء کے مذہب پر کافر ہیں اور دیو بندی جوان جہالت و بطالات کے ساتھ تو ہین جناب سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم وصحبہ اجمعین الی یوم الدین اور ضروریات دین کے مرتکب ہوئے یہ ایسے کافر مرتد بے دین ہیں کہ ان کے بارے میں علمائے حرمین شریفین و ہند وسندھ نے فرمایا: من شک فی کفره وعذابه فقد کفر (۱) ،، جوان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ تفصیل کے لئے حسام الحرمین دیکھئے ! ان دیو بندیوں کا کلام کفری معنی میں ایسا متعین کہ جس میں اصلا کسی تاویل کی گنجائش نہیں یہاں تک که خود مرتضی حسن در بھنگی دیوبندی نے اشد العذاب میں اعتراف کیا کہ خاں صاحب ( اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز ) اگر ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہو جاتے (۲) (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مترجم ، ص ۹۰ ، مطبع رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۲) اشد العذاب ص ۱۳، مرتضی حسن در بجنگی (1) ان دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور جیسا علم ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے (۱) (۲) شیطان کا علم زیادہ ہے اور اس کے علم کی وسعت نص قطعی سے ثابت ہوئی اور حضور علیہ السلام کا علم کم ہے اور حضور کی وسعت علم کی کوئی نص نہیں (۲) (۳) اسی براہین میں میلاد پاک کو کنہیا جنم سے تشبیہ دی (۳) (۴) رشید احمد گنگوہی نے اپنے تخطی و مہری فتوے میں خدا کے لئے لکھا کہ وقوع کذب کے معنی درست ہو گئے یعنی خدا جھوٹ بول چکا۔ (۵) ان کا عقیدہ ہے حضور علیہ السلام کو خاتم النبین به معنی نبی آخر الزماں ماننا عوام کا خیال ہے مگر اہل فہم کے نزدیک تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں ۔ یہاں تک کہ اگر حضور کے زمانے میں یا بعد زمانہ نبوی کوئی نبی مبعوث ہو جائے تو خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا (۴) یہ عقائد یقینا تو بہین خدا اور سول وانکارضروریات دینی ہیں اور یقینی کفر ہیں ۔ تبلیغی جماعت فی الحقیقت دیوبندی ہی ہیں مولوی الیاس کا ندھیلوی کے ملفوظات میں ہے کہ حضرت مولانا اشرفعلی تھانوی نے بڑا کام کیا میراجی چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی ہواور طریقہ تبلیغ میرا تا کہ اس طرح ان کی تعلیم عام ہو جائے۔ او با معنی۔ نیز دینی دعوت " میں اس تبلیغی جماعت کے بانی سے ہے کہ وہ کہتا ہے مولوی ظہیر الحسن ! میر امدعی کوئی نہیں پاتا لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک صلواۃ ہے خدا کی قسم یہ تحریک صلوٰۃ نہیں۔ بلکہ ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے۔ ان عبارتوں سے ظاہر کہ تبلیغی جماعت وہی دیو بندی جماعت ہے اور اس کا مقصد وہی دیو بندیت کی تبلیغ ہے نہ کہ نماز کی تحریک ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کے عقائد کفریہ وضلال پر مطلع ہو کر انہیں امام بناناحرام بلکہ کفر ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے۔ در مختار میں ہے: ”تبجیل الکافر کفر “(۵) (1) حفظ الایمان ص ۱۵، مطبع دار الکتاب براہین قاطعہ، ص ۱۲۲، کتب خانہ امدادیہ براہین قاطعہ، ص ۳۱۸، دار الکتب (۴) تحذیر الناس ص ۴۰ (۵) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۹۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) نہ ہوئی، دہرائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اگر ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر اسے قابل احترام جانا اور اس کے پیچھے نماز جائز جانتا ہے (اور سوال سے یہی ظاہر ہے ) تو کافر ہے۔ تو بہ و تجدید ایمان کرے، اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ اور یہ اس کی جہالت ہے کہ کہتا ہے اگر نماز نہ ہوئی تو ثواب تو مل جائے گا۔ جب نماز ہی نہ ہوئی تو ثواب کا ہے کا ملے گا۔واللہ تعالیٰ اعلم (1) حرام حرام بحکم خدا و رسول سید الا نام علیہ السلام ۔ قال الله تعالى : " وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ أَبَدًا ) قال عليه السلام : " فلا تصلوا عليهم.... الحديث “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۷) ناجائز و حرام ہے۔ کمافی التفسیر الاحمدی وغیرہ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۴ / رمضان ۱۳۹۰ھ