فاتحہ کیلئے ہمارے یہاں یہ بدعتیں نہیں ہونگی“ کہنا کیسا؟ فاتحہ وایصال ثواب کا ثبوت شرعی!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی شادی اب سے چار سال قبل خالدہ کے ساتھ ہوئی خالدہ کے والدین اور خالدہ کو یہ بات معلوم بہ تھی کہ زید تبلیغی جماعت کا سرگرم کارکن ہے شادی کے بعد جب بزرگوں کی فاتحہ کا موقعہ آیا تو خالدہ نے زید سے فاتحہ کے انتظام کے سلسلہ میں کہا اس پر زید نے بزرگوں کی شان میں نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کئے اور کہا جو مر گیا وہ گیا اس پر مابین تلخی ہوگئی زید نے خالدہ کو اس کے میکے بھیج دیا اسی چار سال کے عرصے میں تین بار یہ واقعہ گزرا پنچ لوگوں نے زید کو بہت سمجھایا ہر بار اس نے اقرار کیا لیکن اس کے خلاف کرتار ہاشب برات کے دن پھر زید سے فاتحہ کے انتظام کے سلسلہ میں کہا تو اس نے خالدہ کو مار پیٹ کر اس کے میکے بھیج دیا اور یہ بھی کہا کہ میرے یہاں یہ بدعتیں نہیں ہونگی جبکہ زید کی والدہ فاتحہ اور ایصال ثوب کرتی ہیں اب خالدہ کسی قیمت پر اس کے ساتھ رہنے کیلئے تیار نہیں ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے تحریر فرمائیں؟ (نوٹ) چونکہ یہ فتوی کچہری میں حج کے سامنے پیش کرنا ہے اس لئے حضرت ازہری میاں کے لیٹر پیڈ پر تحریر فرما ئیں اور مرکزی دارالافتاء کی مہر سے مزین فرمائیں۔ المستفتی: قدیر خاں جمالی، آستانہ جمالیہ جمال نگر رامپور یوپی
الجواب: صورت مسئولہ میں زید کی فاتحہ دشمنی ظاہر ہے اور یہ خوب آشکار ہے کہ وہ معمولات اہل سنت کو ناجائز وحرام سمجھتا ہے جبھی تو کہا کہ ” میرے یہاں یہ بدعتیں نہیں ہونگی تو زید ہی کے مونھ اسکی باتوں سے اقرار ہو گیا کہ وہ سنی نہیں بلکہ وہابی ہے۔ اب دو حال سے خالی نہیں یا تو اس کی وہابیت و بد مذہبی حد کفر تک پہونچ گئی یوں کہ خود عقائد کفریہ جیسے انکار ختم نبوت و امکان مثل ونظیر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وغیرہ رکھتا ہے۔ یا ان کو مسلمان جانتا ہے جنکی تکفیر ان کے عقائد کفریہ کے سبب علمائے حرمین شریفین ومصر و ہند وسندھ نے حسام الحرمین وصوارم الھندیہ میں اس طرح کی کہ جو ان کے عقائد کفریہ کو جان کر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ایسی صورت میں زید سے نکاح خالدہ کا کسی قول پر درست نہ ہوا کہ وہ مرتد ہے اور مرتد کا نکاح کسی سے درست نہیں عالمگیریہ میں ہے: لا يجوز للمرتد ان يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذلك لايجوز نكاح المرتدة مع احد کذا فی المبسوط (۱) اور اگر زید نہ تو خود عقائد کفریہ رکھتا نہ ایسوں کو مسلمان جانتا ہے جو عقائد کفریہ کے سبب علمائے حرمین وغیر ہما سے حکم کفر پاچکے مگر معمولات اہل سنت مثل نیاز وفاتحہ ومیلاد و قیام کو بدعت و ناجائز جانتا ہے تو اگر چہ کا فرقطعی نہیں مگر بد مذہب ضرور ہے اور بد مذہب بنت سنیہ کا کفو نہیں اور غیر کفو سے نکاح بے رضا واجازت صریحہ ولی مذہب معتمد پر اصلا درست نہیں اور اجازت صریحہ جبھی معتبر ہے جبکہ غیر کفو کو غیر کفو جانکر ولی نے اجازت دی ہو در مختار میں ہے: ،، ویفتى فى غير الكفو بعدم جوازه اصلا هو المختار للفتوى لفساد الزمان فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غیر کفو بلا رضا ولی بعد معرفته ایاه فليحفظ “ (۲) رد المحتار میں ہے: " لا يلزم التصريح بعدم الرضابل السكوت منه لا يكون رضا (۳) اور سوال سے ظاہر کہ خالدہ کے ولی کو زید کا وہابی ہونا پہلے معلوم نہ تھا لہذازید کا نکاح خالدہ سے بہرصورت درست نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور خالدہ کو اختیار ہے کہ جس سے نکاح جائز ہوکر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله /ذیقعدہ/ ۱۴۰۵ھ