سید احمد تکوینی کی کوئی تقریر وتحریر موجب تکفیر نہیں لیکن حالات مشتبہ ہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثر اللہ سواد ھم حسب ذیل مسائل میں کہ: (۱) سید احمد تکوینی جو مولوی اسمعیل کے پیر ہیں ان کی کوئی تحریر و تقریر موجب تکفیر کا کوئی ثبوت بنتی ہے یا نہیں؟ (۲) کیا اس بنا پر کہ سید احمد تکوینی مولوی اسمعیل مذکور کے پیر ہیں وہ بھی اسی خانہ میں رکھے جائیں گے یا ان سے الگ؟ جبکہ خود امام اہل سنت فاضل بریلوی قدس اللہ سرہ نے بھی ان کے بارے میں بسلسلہ تکفیر احتیاط کا قول فرمایا ہے۔ (۳) واضح ہو کہ سید احمد تکوینی کے مشائخ میں خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ بھی ہیں پس جس طرح شجرہ میں سید احمد تکوینی ہوں کیا وہ شجرہ بسلسلۂ مقطوع ہوگا یا مقبول ؟ کیا ایسے سلسلہ میں بیعت ہونا یا کرنا جائز و معتبر ہوگا یا نہیں؟ واضح ہو کہ اس سے قبل ۱۴ رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ کو استختائے ہذا پیش خدمت کیا جاچکا ہے مگر با وجود یاددہانی کے اب تک ہم جواب سے
الجواب: (۱) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم لمستفتی محمد صابر علی رحمانی،15/983.0.2. محل لله پور بنارس ۲۲۱۰۰۱ (۲) موصوف کی کوئی تحریر یا قول منافی دینی جب ثابت نہیں تو اس وجہ سے ان پر کیا حکم ہوسکتا ہے مگر تاریخ میں اتنا ضرور ملتا ہے کہ مولوی اسمعیل کی نام نہاد تحریک جہاد میں اس کے ساتھ تھے اور مسلمانوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے اور اس ناحق لڑائی کو جہاد کا نام دیا پھر مولوی اسمعیل دہلوی کی رفاقت میں بعید ہے کہ اس کے اقوال پر ضلال پر سید احمد تکوینی کو اطلاع نہ ہوئی ہو۔ قرین قیاس ہے کہ ضرور اطلاع ہوئی ہوگی مگر سید احمد کی اسماعیل کے ساتھ رفاقت تو معلوم ہے اور اس کے اقوال و احوال سے تبری و بیزاری ثابت نہیں تو اگر چہ کوئی حکم قطعی نہیں لگے گا مگر موصوف کی حیثیت ضرور مشتبہ ہے۔ لہذا موصوف کا حکم بھی وہی ہے جو مولوی اسماعیل کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) صورت مسئولہ میں اتصال سلسلہ کا جزم نہیں ہوسکتا اور شجرہ انقطاع وجہ اشتباہ حال قائم ہے پھر خاتم المحدثین سے خلافت و اجازت بھی ثابت ہونا در کارور نہ اتصال سلسلہ وصحت بیعت کا حکم دشوار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله