وہابی کی نماز جنازہ، تبلیغی جماعت کی شرکت اور غیر سنی امام کی اقتدا کا حکم
وہابی کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے پر تو بہ تجدید ایمان تجدید نکاح فرض ہے تبلیغی جماعت میں شامل ہونے والے سخت گنہگار ہیں !غیر سنی امام کی اقتدا میں سنی مسلمانوں کی نماز کا شرعاً کیا حکم ہے؟ (1) وہابی کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے کی عورت کیا نکاح سے خارج ہو جاتی ہے؟ (۲) میرے گھر سے تقریباً ساٹھ قدم کی دوری پر ایک مسجد ہے جس کے انتظام کار، مقتدی و پیش امام سب ہی وہابی ہیں اور میرے گھر سے تقریباً ۳۰۰ تین سو گز کی دوری پر ایک مسجد ہے جو اہل سنت والجماعت کی ہے چونکہ میں وہابی کی امامت میں نماز پڑھ نہیں سکتا تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ میں گھر میں نماز پڑھوں یا جماعت کے لیے تین سو گز کی دوری پر جا کر نماز ادا کروں یا نزدیک کی مسجد میں بغیر جماعت کے۔ (۳) جو حضرات تبلیغی جماعت میں جاتے ہیں اور اس کے باوجود اولیائے کرام کی مقدس بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں ان حضرات کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۴) جو شوہر بیوی رکھتا ہوتو کیا اسے دوسری شادی کے لیے اپنی بیوی سے اجازت لینی پڑے گی یا نہیں؟ لمستفتی : ڈاکٹر ایم ایس صدیقی قادری رضا بازار پر داناؤ، (اتر پردیش)
الجواب: (1) وہابی اپنے عقائد کفریہ کے سبب مرتد ہیں ان کی نماز جنازہ پڑھنا یا ان کے لیے دعائے مغفرت کفر ہے۔ رد المحتار میں ہے: ،، الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما اخبر به (۱) لہذا جس سے یہ گناہ صادر ہوا اس پر تو بہ و تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح فرض ہے واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اہلسنت و جماعت کی مسجد میں لائق امامت کے پیچھے نماز پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة مطلب في الدعاء المحرم ، ج ۲، ص ۲۳۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) وہ سخت گنہگار ہیں جبکہ دانستہ جاتے ہوں اور اگر وہابیہ کی بد عقیدگی کے حامل ہیں تو ان کا وہی حکم ہے جو وہابیہ کا ہے واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ