اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ دیو کا استعمال اور مرتد کی نماز جنازہ کا حکم
نقصان نہیں ہوتی ہے ان سے دیوڈ رات ہیں۔ دیہات میں بعض مردعورت دیو سے مراد باری تعالیٰ کو لیتے ہیں لہذا ایسالفظ استعمال کرنے والے پر شرعاً کیا حکم ہے؟ بالتفصیل اور عام فہم جواب مرحمت فرمائیں۔ (۳) غیر قاری کے پیچھے قاری کی نماز ہوگی یا نہیں بینوا توجروا المستفتی محمد نعیم بلرامپوری ، ساکن محله چمن گنج کا نیور
الجواب: وبارہ زمانہ پر حکم کفر ہے۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ہدکام بلکہ بحکم فقہاء کفر ہے کہ کافر کیلئے دعائے مغفرت مستلزم تکذیب قرآن ہے۔ قرآن فرماتا ہے : اِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ تُشْرِكَ بِهِ - الآية ()() اور فرماتا ہے : اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ (۲) در مختار میں ہے : الحق حرمة الدعاء للكافر (۳) اسی میں ہے : الدعاء بالمغفرة للكافر كفر (٢) جولوگ اسکی نماز جنازہ میں شریک ہوئے ان پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کریں اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کریں واللہ تعالی اعلم (۲) اللہ تعالیٰ کا نام ”دیو" رکھنا حرام ہے بد کام کفر انجام ہے اور خدا کو یہ کہنا کہ ”ڈرات ہیں“ کفر ہے۔ زید پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہے تو تجدید نکاح بھی کرے واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں جبکہ ایسی خطا کرے جو مفسد نماز ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ