وہابی کی انتخابی حمایت، مرتکب زنا کی امامت اور روزے میں انجکشن کا شرعی حکم
(1) زید ایک سنی صحیح العقیدہ عالم ہے اور بکر متعصب و متشدد وہابی جو سنیوں کے جلسہ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روکنے میں ہر ممکن کوشش کرتا ہے کیا ایسے وہابی شخص کا الیکشن میں زید کا ساتھ دینا جب کہ بکر کی وہابیت زید پر اظہر من الشمس ہے اور زید کو بکر کی وہایت معلوم ہوتے ہوئے بھی ہر ممکن طریقے سے اس کے ساتھ جا کر پورے علاقے کا دورہ کرنا اور یہ کہنا کہ بکر وہابی ضرور ہے لیکن الیکشن میں اس کا ساتھ دوں گا ، کیا یہ زید کا کہنا صحیح ہے، از روئے شرع درست ہے؟ نیز زید پر کوئی شرعی جرم عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب سے مستفیض فرما کر مشکور ممنون فرمائیں۔ بینوا توجروا (۲) زید نی صحیح العقیدہ عالم نے محمود کی بیوی زاہدہ سے زنا کیا اور زید کا زنا کرنا اراکین مدرسہ پر اظہر من الشمس ہے۔ زید کو مدرسہ میں رکھے ہوئے ہیں اور لوگ زید کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید زانی پر کوئی شرعی جرم وارد ہوتا ہے یانہیں؟ اور اراکین مدرسہ کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے؟ زید کی اقتدا میں نمازیں ہوئیں یا نہیں؟ مفصل جواب تحریر فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ (۳) روزہ کے دنوں میں سوئی لگوانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ مستفتی: جناب عبدالمنان بک سیلر مقام گورا، جو کی ، پوسٹ بھین جوت ، گونڈہ ، یونی
الجواب: (1) وہابیہ زمانہ کہ اکثر مرتد ہیں یا وہابیہ مرتدین کو امام و پیشوا یا مسلمان جانتے ہیں، ان سے بحکم حدیث خیر الا نام علیہ افضل الصلوۃ والسلام وارشادات علمائے کرام معاملت بھی جائز نہیں ، اُن کا تعاون کیونکر جائز ہوگا بلکہ یہ نرمی معاملت سے بدتر ہے کہ اس امر میں کسی وہابی کی مدد سے عمدہ بنانے میں مدد ہے اور یہ اس کا اعزاز اور یہ حرام بلکہ علمائے کرام نے کافر کی ادنی تعظیم کو کفرفر مایا یہاں تک کہ کافر کو تعظیما سلام کرنا، عزت سے محض استاذ کہنے پر حکم کفرفرمایا۔ در مختار میں ہے: لو سلم على الذمى تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر (۱) کمافی الاشباہ جبکہ اس کی اعانت کے لئے کوئی ضرورت شرعیہ یا مصلحت شرعیہ داعیہ نہ تھی ضرور اس کی اعانت حرام حرام حرام بد کام بدانجام۔ زید پر تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید کا زنا جبکہ ثبوت شرعی سے ثابت ہو تو اسے بے تو بہ وظہور صلاح حال مدرسہ میں رکھنا، امام بنانا گناہ ہے نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) در مختار میں ہے: ”کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحریم تجب اعادتها “ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں، کہ مفسد صوم وہ چیز ہے جو دماغ یا جوف میں منفذ کے ذریعہ پہنچے اور سوئی کی دوا جوف میں منفذ کے ذریعہ نہیں پہنچتی بلکہ مسام کی راہ سے داخل ہوتی ہے اور اس پر فقہاء نے فساد روزہ کا حکم نہ فرمایا ۔ تنویر و در مختار میں ہے: أو أقطر في إحليله ماءً أو دهناً وإن وصل إلى المثانة على المذهب و أما في قبلها فمفسد اجماعاً لأنه كالحقنة (٢) ردالمحتار میں ہے: أى قول أبي حنيفة و محمد معه فى الاظهر وقال أبو يوسف: يفطر، والاختلاف مبنى على أنه هل بين المثانة والجوف منفذ أولا ؟ وهو ليس باختلاف على التحقيق۔ والاظهر أنه لا منفذله وانما يجتمع البول فيها بالترشح، كذا يقول الأطباء- زيلعي (ه) اسی در مختار میں ہے: (۳۷۳) " (أو ادهن أو اكتحل أو احتجم) وان وجد طعمه في حلقه (۱) رد المحتار میں ہے: ”قال في النهر لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذى هو خلل البدن والمفطر انما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر - الخ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله