نداے غیر اللہ اور امداد کو شرک بتانے والے کے کلام پر سوال
نداے غیر اللہ کو حرام وشرک بتانا وہابیہ کا افترا ہے، تعزیہ مہندی کی تعظیم کرنا ، ان کے نزدیک نذر ماننا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ہادیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں : (۱) مولوی ابوالبشر دہلوی اپنی تصنیف انوار ہدایت المعروف بہ ”اثمار جنت میں اگلے صفحہ پر اپنا نام سید بادی حسن مفسر قرآن پاک مولد سہارنپوری وطناً ثم الدہلوی صفحہ ۱۲؎ پر مذمت شرک کے بیان میں فرماتے ہیں کہ یا اللہ کی جگہ غیر کو جیسے یا معین الدین، یا عبدالقادر جیلانی شیئا للہ پکارنا، مستقل ان سے عرض کرنا اور مدد مانگنا حرام اور شرک ہے۔ کیونکہ سوائے اللہ تعالی کوئی کسی کو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ضرر نہ کوئی کسی کی مدد کر سکتا ہے۔ ہاں یوں پکارنا یا اللہ ان کے صدقے سے یہ یہ کر دے تو کوئی حرج نہیں ۔اسی
الجواب: ندائے غیر اللہ کو حرام و شرک بتانا وہابیہ کا افتراء ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ندائے غیر اللہ وارد ہے۔ مثلاً "يأيها النبي، يأيها المدثر، يأيها المزمل، يأيها الذين آمنوا، يأيها الناس، يأيها الكافرون" اور یونہی مطلقاً استمداد کو شرک بتانا وہابیہ کا افتراء بلکہ خود ان کا شرک بلکہ خدائے قدوس اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کو مشرک و مشرک گر بتانا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر غیر اللہ سے استمدادو استعانت و اعانت کا حکم دیا۔ از انجملہ "وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ. وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى ) یونہی احادیث مبارکہ میں بکثرت اولیائے کرام سے طلب عون کا حکم وارد ہوا، جسکی تفصیل ” برکات الامداد لاصل الاستمداد و انوار الانتباه فی حل ندائے یا رسول اللہ رسائل اعلیٰ حضرت ،، میں ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ پہلی بات جس کی بابت سوال ہے عبث ہے اور مکروہ تحریمی ہے اور اس سے نماز واجب الاعادہ ہوگی نہ کہ فاسد کہ عمل بالیدین بر مذہب مختار مفسد نہیں کمافی التبیین وغیرہ (۲) یونہی دوسر افعل مکروہ تحریمی ہے اور نماز واجب الاعادہ جبکہ بروجہ تکبر ہو ورنہ مکروہ تنزیہی کمافی الہندیہ وغیر ہا(۳) اور تیسری بات بھی مکروہ تحریمی ہے اور نماز کا وہی حکم اور چوتھی کا حکم یہ ہے کہ نماز ہو جائے گی جبکہ محض گٹہ کھلا ہواور گٹہ کے ساتھ کلائی بقدر ۱/۴ یا پنڈلی ۱/۴ کھلی نہ ہور نہ نماز نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حرام ہے اور شرک بتانا وہابیہ کی عادت بد ہے اور شرع پر افتراء ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) درست ہے اور ضرور رکھنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرله شب ۳ ذی الحجہ ۱۴۰۱ھ