پیر صاحب کا وہابیت کی تبلیغ کرنا، توبہ و تجدید ایمان اور مشائخ کی توہین کا حکم
(۱۸) مذکور پیر صاحب اپنے کو نی صحیح العقیدہ کہتے ہیں تو ان کا یہ قول معتبر سمجھا جائیگا یا تقیہ بازی شمار کی جائیگی؟ اگر از روئے شرع مذکور پیر صاحب پر کوئی حکم لازم آتا ہے تو ان کے ساتھ تصفیہ کی کیا صورت ہے؟ تو بہ اور تجدید ایمان ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا المستفتی: عبدالستار ہمدانی بن عبد الحبیب ہمدانی رضوی متصل نگینه مسجد، پور بندر، گجرات (الہند )
الجواب: (۱، ۲) یہ مسائل شرعیہ بیان کرنا نہیں بلکہ وہابیت کی تبلیغ اور عوام کو گمراہ بے دین بلکہ مرتد بنانا ہے اور ان کو گر فتار و بال کرنا ہے اور ان کا وبال و نکال اپنے سر لینا ہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم فرماتے ہیں: من سن في الاسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل اجر من عمل بها ولا ينقص من اجورهم شئ و من سن في الاسلام سنة سيئة فعمل بها بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها ولا ينقص من اوزارهم شئ ،، جو اسلام میں اچھی بات نکالے اس کے لئے اس کا اجر ہے اور جولوگ قیامت تک اس پر عمل کریں ان کا ثواب بھی اس کے لئے ہے بغیر اس کے کہ ان کے اجور میں کمی ہو اور جو بُری بات نکالے تو اس پر اس کا تا قیامت عمل کرنے والوں کا وبال ہو بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے وبال میں کمی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عبارت مذکورہ میں مصنف نے تمام مشائخ پر رجما بالغیب محض بے ثبوت شرعی بدعملی کا حکم لگا یا ہے اور اس طرح وہ اشد افترا کا مرتکب ہوا اور بے شک اس نے مشائخ و مرشدین کی توہین کی اور پیری و مشیخت کے پردے میں اپنی وہابیت کو چھپا کر وظیفہ وہابیہ ادا کیا جو کہ تو ہین پیران و مشائخ اور ان سے برگشتہ کرنا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جامع شرائط بیعت کے ہاتھ پر بیعت ہونے کے بعد تبدیل بیعت ہرگز جائز نہیں یہ عہد ہے جس کا ایفاء شر عالا زم ہے۔ قال تعالیٰ: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا بلکہ اسی بیعت پر قائم رہنا ضروری ہے بشرطیکہ بیعت کسی طرح فسخ نہ ہوگئی ہو اور سوال میں جو وجوہ تبدیل بیعت کی لکھیں، غلط و مہمل ہیں۔ پہلی کا مہمل ہونا تو خود ظاہر کہ سلوک باقی رہ جانے کی صورت میں تبدیل پیر کو لازم ٹھہرایا اور یہ نہ جانا کہ بیعت نام ہی ہے معاہدہ سلوک کا نہ کہ بے سلوک ہاتھ پکڑ کر خدا تک پہنچا دینا تو مرید کا سلوک تو حیات میں بھی باقی رہتا ہے تو اس تقریر پر چاہیے کہ حیات پیر میں بلکہ بجر دبیعت دوسرا پھر تیسرا اور بے غایت پیر بدلنا ضروری ہو تو بعد انتقال کی قید سے کیا فائدہ۔ دوسری وجہ بھی تبدیل بیعت کی صحیح نہیں۔ ہاں طلب فیض کے لئے کسی با فیض مرشد سے اپنی پہلی بیعت صحیحہ پر قائم رہتے ہوئے اور مرشد اول کو مرشد سمجھتے ہوئے طالب ہونا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نہیں۔ کہ اس میں غیر مستند باتیں درج ہیں جیسا کہ عبارت مندرجہ (الف) سے ظاہر ہے اور عقائد باطلہ وہابیہ سے مملو ہے جیسا کہ عبارت (ب) سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فی الواقع عبارت (الف) سے توہین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آشکار ہے اور اس کی نسبت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف غلط و باطل ہے اور دوسری عبارت میں خدا کو ہر جگہ حاضر و ناظر بتانا عین حلول کا قول ہے جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ منزہ ہے تو اسے ہر جگہ حاضر وناظر سمجھنا مصنف اور وہابیہ کا شرک ہے جس کی تہمت بکمال دیدہ دلیری وہابیہ اہل سنت پر رکھتے ہیں اور ان عبارتوں کا مصنف سخت گستاخ جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم اور جناب الوہیت میں حلول کا معتقد ہوکر خود مشرک بے دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (2) صحیح نہیں ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) وہ کا فربے دین ہیں اور ان کے کفر پر مطلع ہوکر ان کے لئے تعظیمی کلمات بولنا کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ”لو سلم على الذمى تبجيلا يكفر لان تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسی یا استاذ (1) سورة الاسراء: ۳۴ تبجيلا كفر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۹) مولوی اسماعیل دہلوی پر متعدد وجوہ سے فقہاء کے نزدیک حکم کفر ہے اس کی تفصیل الکوکبۃ الشہابیة والاستمداد وغیرہما میں ملاحظہ ہو۔ از انجملہ اس کی صراط مستقیم میں مندرج وہ عبارت جس میں اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خیال میں مستغرق ہونے کو گاؤ، خر کے خیال میں ڈوبنے سے بدرجہا بدتر بتایا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اس کے اقوال کو ہلکا سمجھنا ہے اور کفر کو ہلکا سمجھنا پھر قائل کفر کے لئے اس پر معافی چاہنا کفر ہے۔کہ إنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ - الآية (٢) کی تکذیب ہے اور بلا شبہ ہر ایک کے لئے راستہ کھولنا کہ جس کافر کے لئے چاہے یہی کہہ دے۔ والعیاذ باللہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) اشعار مذکورہ سے متبادر حیات انبیاء و اولیاء کا انکار ہے۔ انبیاء و اولیاء کے ساتھ فرعون و نمرود کا ذکر بھی سوئے ادب سے خالی نہیں۔ لہذا مذکورہ اشعار معنی کفری رکھتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۵،۱۲،۱۱) ظاہر ہے کہ وہ مصنف کا ہم خیال و ہم نوا ہے تو اس کا حکم وہی ہے جو مصنف کا ہے یعنی وہ وہابی دیو بندی بے دین ہے نہ کہ سنی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳) صرف جائز ہی نہیں بلکہ فرض ولازم تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) ان پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے ، بیوی رکھتے ہوں تو تجدید نکاح بھی لازم ہے اور بیعت کو شخ سمجھیں اور کسی سنی جامع شرائط سے بیعت ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۶) حرام حرام بد کام کفر انجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۷ ، ۱۸) وہ مذبذب نہیں بلکہ پختہ وہابی ہے اور ادعائے سنیت میں جھوٹا اور کھلا تقیہ باز ہے ۔ اس کی (1) الدر المختار ج ۹، ص ۵۹۲، ۵۹۱ کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره دار الكتب العلمية، بيروت (۲) سورة النساء: ۴۸ مخالفت بلاشبہ فرض و باعث اجر۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم شب ۵ رشعبان المعظم ۰۲ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی