شیعہ مذہب اختیار کرنے والے سے سلام کلام، میل جول اور اس کے جنازے میں شرکت کا حکم
ایک شخص جو سنی تھا اب اس نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا ہے۔اب وہ سنیوں کی مسجد میں آکر نماز پڑھتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ اس سے سلام کلام ، میل جول اور شادی غمی میں اسکے یہاں شریک ہونا کیسا ہے؟ جو لوگ اس سے میل جول رکھیں ، سلام کلام کریں، ان کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے؟ اور محلہ کے سنی حضرات اس پر توجہ نہ کریں تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟ قرآن وسنت سے مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: اگر یہ واقعی ہے کہ وہ شخص شیعہ ہو گیا ہے تو بلاشبہ وہ اسلام سے پھر گیا ہے۔اس کا وہی حکم ہوگا جو شیعہ وغیرھم مرتدین کا ہے۔ اس سے سلام کلام میل جول، شادی بیاہ حرام بد کام بد انجام ۔حدیث میں ہے: لاتواكلوهم ولاتشاربوهم ولا تجالسوهم ولاتناكحوهم (۱) اور اس کے جنازہ میں شرکت بھی حرام کفر انجام ۔ قال تعالیٰ: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ - الآية (۲) رد المحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما اخبر به (۳) (1) كنز العمال، كتاب الفضائل فصل اول فى فضائل الصحابة ، ج ۱، ص ۲۴۱، حدیث ۳۲۴۶۵ ۲۳۵۲۶ دار الكتب العلمية، بيروت (۲) سورة التوبة : ۸۴ (۳) رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، ج ۲، ص ۲۳۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور اس سے ملنے جلنے والے سخت گنہ گار مستوجب عذاب نار ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله