دیوبندیوں کے کفریات، ان سے میل جول کی ممانعت اور ان کی مسجد میں نماز کا حکم
مطہرہ کا کیا فیصلہ ہے؟ (۱۲) ایسی صورت میں جبکہ اس بستی میں ایک ہی مسجد ہے جس پر انہیں لوگوں کا امام اور اس کے حمایتی برادری والوں کا قبضہ ہے وہ لوگ (امام کے خاندان والے ) مسجد کو اپنی ملکیت اور امامت کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ اس میں ہم لوگوں کا جانا خطرے سے خالی نہیں بلکہ ہنگامہ آرائی وفتنہ وفساد کا خطرہ ہے ایسی صورت میں سنی حضرات کیا کریں؟ اس مسجد میں نماز پڑھیں یا اپنی عبادت گاہ الگ بنائیں؟ ضروری گزارش یہ ہے کہ ہماری بستی میں اختلاف مسلک و عقائد کے پیش نظر سخت ہنگامہ ہے۔ عوام کو شرعی فیصلہ کا انتظار ہے۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو ، اول فرصت میں مدلل و مفصل مع حوالہ جات کتب جواب عنایت فرما کر ہم لوگوں کی رہنمائی کی جائے۔ فقط منجانب: مسلمان بنول ، معرفت محمد فیض الحسن رضوی ڈاکخانہ بنول، رائے پور، سیتا مڑھی، بہار،۲۱ رستمبر ۱۹۸۰ء
الجواب: (1) دیو بندی اللہ عز وجل ورسول علیہ السلام کی صریح اہانت اور ضروریات دین کے انکار کی بدولت علماء حرمین و مصر و شام وغیرہ کے فتاویٰ سے ایسے کافر مرتد بے دین ہوئے کہ جو ان کے کفریات جان کران کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے اور کا فرتو کا فر ، بد مذہب جس کی بدمذہبی حد کفر تک نہ پہنچی ہوا اور مسلمان فاسق سے بھی میل جول بنص قطعی قرآن عظیم حرام ۔ قال اللہ تعالیٰ : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) یعنی اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: ان القوم الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع اور جب دیابنہ مرتد ہیں تو مرتد کا نکاح عالم میں کسی سے صحیح نہیں۔ در مختار میں ہے: ،، لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا ) ان سے میل جول کو جائز سمجھنے والا ضروری دین کا منکر ہو کر کافر ہے یونہی انہیں اچھا سمجھنے والا بدرجہ اولیٰ انہیں کی طرح مرتد ، لاجرم ہمارے علماء نے اسے کا فر کہا جو یہ کہے کہ نصرانیت یہودیت سے اچھی ہے تکملہ لسان الحکام للامام برہان الدین الخالفی العدوی میں ہے: دو ولو قال النصرانية خير من اليهودية يكفر وينبغي ان يقول اليهودية شر من النصرانية-اه‘“(۲) تو مطلقاً کافر کی تحسین کیونکر کفر نہ ہوگی ۔ لہذا اگر یہ واقعہ ہے کہ وہ شخص دیو بندیوں سے میل جائز اور انہیں اچھا سمجھتا ہے تو اس کا وہ حکم ہے جو مذکور ہوا اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔ وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا ملخصاً (۳) کذافی الدر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حرام، بد کام، بدانجام ہے، بلکہ کفر ۔ جنہوں نے اس کا ارتکاب کیا، جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرلیں اور ان کا صلاح حال ظاہر نہ ہوئے، انہیں امام بنانا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور ان کے پیچھے نماز نادرست ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیو بندی کو دانستہ پیر بنا نا حرام بلکہ کفر ہے۔ ،، لان تبجيل الكافر كفر “(۲) اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے والے کا وہی حکم ہے جو گزرا اور روکنے والا ما جور ومستحق ثواب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ پیچ کہتا ہے، تو اب پائے گا انشاء اللہ۔ واللہ تعالی اعلم (۵) جائز ہوگی اور وہ گناہ گار نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم كتاب العقائد فرق باطله (۶) علماء سے بے وجہ عداوت کفر انجام ہے۔ ہند یہ ونصاب و تکملہ لسان الحکام میں ہے: ”من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر“ اور توہین علماء کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: ”الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر“ تکملہ لسان الحکام میں ہے: ”رجل يجلس على مكان مرتفع ويسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء وهم يضربونه بالوسائد ويضحكون يكفرون جميعا - اه ملتقطا“ اور سنیوں کو گالی دینا بر بنائے سنیت ہو تو یہ دوسرا کفر ہے اور جھوٹا الزام لگانا حرام ہے۔ اس پر توبہ و تجدید ایمان فرض اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جواب نمبر اے سے واضح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ، اور ان کی مجلس میں شرکت گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ان تمام باتوں کا جواب نمبر ۱ سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) ایسے لوگ مسلمان نہیں اور ان کی اقتدا میں نماز باطل محض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) وہ نہایت جاہل ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) وہ اپنے منہ آپ دیو بندی اور ان احکام کا مستحق جو اس نے سنیوں پر لگائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) علیحدہ مسجد بنائیں ، اس جگہ جہاں فتنہ کا اندیشہ ہے، نہ جائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله