ہندو دیوتا کے نام پر چڑھائے گئے چڑھاوا (بھوج) کھانے کا حکم اور اس کا نکاح پر اثر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان را شدین کہ: زید اہل علم ہے اور محفلوں میں روایتیں پڑھتا ہے، وعظ کہتا ہے۔ اس عالم زید کا ایک ہندو کافر دوست ہے اس ہندو دوست نے اپنے لڑکے کی خوشی میں ان کے ہندو دیوتا بنام بھیرون کے یہاں سوامن یعنی ایک من دس کلو آٹے کی بائیاں وچور مال کیا اور اس جگہ پر ان ہندؤوں نے رات بھر بھجن بولے صبح کے ٹائم اس کھانے کا اس بھیرون دیوتا کے چبوترے پر بھوج لگا یا پھر اس کھانے کو مسلم زید نے بھی بڑے ذوق و شوق سے کھایا۔ براہ کرم مندرجہ ذیل باتوں کے لئے حدیث شریف میں کیا فرماتے ہیں؟ آگاہ کرنے کی زحمت اٹھا ئیں۔ عین نوازش ہوگی۔ (۱) زید کو کیا اس سوامنی کا بھوج کھانا جائز تھا ؟ (۲) زید کے شامل کوئی مسلم بھائی کھانا کھانا چاہے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۳) کیا زید کا نکاح درست رہا یا فاسد ہو گیا ؟ المستفتى : عبدالکریم ولد عبدالحمید، چندیل گو بندگڑھ ضلع اجمیر شریف
الجواب: زید اس کافر سے دوستانہ مراسم کی وجہ سے اور بتوں کا چڑھاوا کھانے کی وجہ سے گناہ گار ہے تو بہ کرے ورنہ ہر مسلم واقف حال اسے چھوڑ دے اور اس کے نکاح پر اس کے فعل بد کا اثر نہیں ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم بہاء المصطفیٰ قادری