دیوبندیوں کے ساتھ تعلقات، کھانا پینا اور نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم
کیا دیو بندیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) کوئی شخص جو مکمل دیو بندی عقیدہ سے تعلق رکھتا ہو توسنی یعنی بریلوی حضرات کو اس سے کس قسم کا برتاؤ رکھنا چاہئے؟ (۲) بریلوی حضرات کو دیو بندی خیالات والے کے یہاں مرنے پر تعزیت میں جانا اور نماز جنازہ میں شرکت کرنے کا حکم ہے یا نہیں؟ (۳) ان سے دعا سلام اور ان کے ساتھ کھانا پینا اور کس قسم کا تعلق رکھنے کا حکم ہے یا نہیں؟ (۴) کچھ بریلوی خیالات کے حضرات دیو بندی کے یہاں پر تمام تعلقات سے سختی سے منع فرماتے ہیں۔ اس مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ فقط والسلام المستفتی ٹھیکیدارمحمد یسین بلکڑی نال ، کرنیل گنج، گونڈہ
الجواب: (استا۴) دیوبندی اللہ ورسول کی اہانتیں لکھنے اور چھاپنے سے ایسے مرتد بے دین ہوئے کہ علمائے حرمین شریفین ومصر و ہند وسندھ نے انہیں ایسا کا فرفرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے (۱) اور مرتد سے میل جول، شادی بیاہ ، اُن کے جنازوں میں شرکت کرنا سب حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے: فلا تجالسوهم ولا تواكلوهم ولا تشار بوهم ولاتنا كحوهم وان مرضوا فلا تعودوهم “ وان ماتو افلاتشهدوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم (۲) (۱) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۲) کنز العمال، کتاب الفضائل ذكر الصحابة وفضلهم رضی الله عنهم اجمعين، ج ۱۱، ص ۲۴۱، ۲۴۶ . ۲۴۷، حدیث ۳۲۵۳۹، ۳۲۴۶۵۳۲۵۲۵۳۲۵۲۶ مؤسسة الرساله، بيروت یعنی ان کے ساتھ کھاؤ مت بیٹھومت، شادی بیاہ ، مرض میں عیادت ، مرنے پر نماز جنازہ، کچھ نہ کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی