وہابی نواز اور صلح کلی سے مرید ہونے کا حکم اور حضور ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی ممانعت
حفاظت کے لئے تن من دھن ہی نہیں بلکہ پورا گھرانہ قربان کر دے وہ حسین ایسے ادب سے بری کلمات اپنے نانا سے کہے اور کیا قرآن کریم کا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کم ہے کیا مسجد کا درجہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا ہے؟ تفصیل سے جواب مدلل من خمس در دوره نوری کیراف مولا نا عبدالرزاق صاحب رضوی کھیوجہ وار پیر چوک جام نگر ، گجرات 361001
الجوا: (1) وہ شخص وہابی نواز ہے اور صلح کلی ہے۔ اس کا یہ قول اس کی بدعقیدگی کی کھلی نشانی ہے اور وہابی نوازی کا ثبوت ہے اس سے مرید ہونا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ حکایت واہیات و خرافات و بے اصل ہے اور حضور علیہ السلام ایسا قول فرمانے سے منزہ و معصوم ہیں مولوی مذکور جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف ایسے قول کی نسبت کی سخت جری و بے باک ہے بلاشبہ مفتری ہے اور سخت وعید شدید کا مستحق ہے۔ حدیث میں ہے: من كذب علي متعمدا فليتبوء مقعده من النار (1) جو مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ دوسری حدیث میں ہے: من حدث عنی بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين (۲) جو ایسی حدیث بیان کرے جو جھوٹی معلوم ہوتی ہو تو وہ جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ نیز حدیث میں ہے: كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع (۳) الصحیح لمسلم، ج ۱، ص ۷ ، باب تغليظ الكذب على رسول الله صلی الله علیه وسلم، مجلس برکات الصحيح المسلم ، باب وجوب الرواية عن الثقات وترك الكذابين ، ج ۱، ص ۶ ، مجلس بركات الصحیح لمسلم ، باب النهي عن الحديث بكل ما سمع،، ج ۱، ص ۸، مجلس برکات یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہی بس ہے کہ ہر سنی سنائی بات بیان کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رصفر المظفر ٧ ۱۴۰۴ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی