وہابیوں کی گستاخی، کلمات کفر اور دیگر متفرق شرعی مسائل کے جوابات
سے کیا کارروائی کی جائے کہ وہ نماز کا پابند ہو جائے ، خدا اجر و ثواب عطا فر مائے ؟ شرعی حکم کے مطابق ان سوالات کے جوابات عطا فرمائیں۔ المسئلتی : حافظ محمد شریف رضوی، پیش مام ضلع بلداته، (ایم پی )
الجواب: (1) جبکہ خوف فتنہ نہ ہو، نہ لیا جائے وہ اپنی مرضی سے دے رہے ہوں تو لینا مباح ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۲) یہی کہ یہ گستاخی ہے اور قرآن کریم کے خلاف ہے قرآن عظیم نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج کو مومنین کی مائیں فرمایا تو ضرور حضور علیہ السلام حرمت و تعظیم میں مومنین کے اب ( پدر ) ہوئے اور ایک قراءت شاذہ میں وارد بھی ہوا اور حدیث شریف میں فرمایا: ،، انما انالكم مثل الوالد (۱) میں تمہارے لئے مثل والد ہوں۔ نیز وہابیہ سے یہ پوچھا جائے کہ بے ایمانو! ہم سے ہر بات کا ثبوت قرآن وحدیث سے وقرون ثلثہ سے مانگتے ہو تو اپنے اس کلمہ کا بھی ثبوت دو گے یا نہیں؟ وھو تعالی اعلم (۳) ناجائز و حرام ہے بلکہ علماء نے اسے کفر لکھا ہے اور استخفاف کی نیت سے یہ اختصار ضرور کفر ہے اور یہ کلمہ عمل ہے جس کا کوئی مطلب نہیں۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۴) دعوت قبول کرنا ہی جائز نہیں۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم البتہ پاک و حلال چیزیں پاک طور سے پکائیں تو حلال ہے واللہ تعالی اعلم (۵) سب ناجائز وحرام، والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۲) نماز جنازہ ضرور پڑھی جائیگی اور کوشش اسے نمازی بنانے کی کریں۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی