نام نہاد جماعت اسلامی کے عقائد کفریہ ہیں ، شرابی اور بے نمازی کو کافر کہنے کا حکم؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) کیا جماعت اسلامی یا تبلیغی جماعت کو سلام کرنے والے کی عورت نکاح سے خارج ہو جاتی ہے؟ (۲) ہمارے قصبہ شاہ آباد میں ایک ادارہ برکت اسلام کے نام سے چل رہا ہے جس میں غریب طلباء تعلیم پارہے ہیں مدرسہ میں دنیوی تعلیم کے علاوہ خالص اہلسنت و الجماعت کو تعلیم دی جاتی ہے کیا ایسے ادارے میں چرم قربانی وزکوۃ وغیرہ دینا حرام ہے؟ زید کا کہنا ہے کہ ایسے ادارے کو چرم قربانی وغیرہ دینا حرام ہے۔ (۳) مندرجہ ذیل اشخاص کو زید کا فر بتاتا ہے: بے نمازی، جماعت اسلامی کے کل افراد، جس نے زندگی میں تین مرتبہ شراب پی، کیا علمائے اہلسنت کے نزدیک یہ اشخاص کا فر ہیں؟ اگر نہیں تو زید کس عذاب کا مستحق ہے؟ گزارش ہے کہ مندرجہ بالا سوالات کا جواب کتب فقہیہ کے حوالہ سے تحریر فرمانے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ فقط
الجواب: المستفتی محمد امین مخاں، محلہ بدھ بازار، شاہ آباد، ہر دوئی (۱) نام نہاد جماعت اسلامی والوں کے عقائد کفریہ ہیں۔ منجملہ انکے عقائد کفریہ کہ ان کا سب سے بڑا کفری بول یہ ہے جو تنقیحات میں مودودی نے لکھا کہ : ” قرآن وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر و حدیث کے فرسودہ ذخیروں سے نہیں“ (1) اس بول نے شرع و دین کچھ نہ کہا بلکہ حدیث کا کھلا انکار کر دیا اور حدیث کا مطلق انکار قرآن کا انکار اس عبارت سے ظاہر اور تفسیر کا انکار مطلق ضروریات دین کا انکار اور قطعا دین سے آزادی اور شرع سے بے نیازی۔ اس کے علاوہ بھی مودودی کے بہت سے اقوال کفری ہیں جن کی تفصیل مودودی کا الٹامذہب وغیرہ رسائل اہلسنت میں ہیں۔ اور ان سب پر مزید یہ کہ مودودی جماعت دیوبندیوں کو مسلمان جانتی ہے۔ اور (1) تنقیحات مودودی دیو بندیوں پر تو ہین خدا و رسول کی وجہ سے علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتویٰ دیا اور یہ فرمایا کہ جوان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین (۱) یہاں سے ظاہر کہ جو مودودیوں کو مسلمان جان کر انہیں سلام کرتا ہے اس کا حکم وہی ہے جو مودودیوں کا ہے یعنی بطلان نکاح وحبط عمل اور اگر مسلمان نہیں جانتا تو سخت مرتکب حرام ہے اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زکوة و فطرہ کا مستحق فقیر ہے مدرسہ کو دینے سے زکوۃ فطرہ ادا نہ ہوں گے اگر مدرسہ کی امدادز کوۃ وفطرہ کی رقم سے کرنا چاہیں تو کسی فقیر کو مالک بنا کر اس کی خوشی سے مدرسہ کے لئے لے لیں۔ چرم قربانی مدرسہ کو دے سکتے ہیں۔ مگر یہ حکم سنی مدارس کا ہے۔ مودودی یا کسی بد مذہب کے مدرسہ کی امداد کسی طرح جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے نمازی ہمارے امام صاحب ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کافر نہیں ۔ البتہ شدید وعید کا مستحق سخت عذاب کا سزاوار ہے اور بہت صحابہ و تابعین نے اسے کافر بھی بتایا اور یہ اس وجہ سے کہ اس زمانے میں ترک نماز خاص علامت کفار تھی۔ اس دور میں جبکہ بے نمازیوں کی کثرت ہے مطلقاً بے نمازی کی تکفیر نہ کی جائے۔ خیر یہ تو مشورہ سنی کو ہے مگر مودودی صاحب نے خود بے نمازی کو کافر بتایا ہے تو ان کے بارے میں مود و دیوں سے پوچھنا چاہئے کہ کیا رائے اور ان کا یہ فعل کیسا ہے اور اس کے پیش نظر اگر کوئی بے نمازی کو کافر کہے تو اس پر کیوں الزام ہے؟ اور مودودیوں پر کیوں نہیں؟ واللہ تعالیٰ اعلم جماعت اسلامی نام نہاد کا حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم شرابی سخت گناہگار مستحق نار ہے مگر کافر نہیں ۔ جب تک کہ حلال جان کر نہ پئے اور یہ گمان کسی سنی سلمان کے بارے میں نہیں کیا جائیگا کہ وہ حرام خدا کو حلال سمجھتا ہے۔ (1) در مختار میں ہے: "لا نا لا نسئ الظن بالمسلم (۲) فی الواقع اگر شخص مذکور نے مسلمان شرابی کو کافر جان کر کافر کہا تو خود کا فر ہے تو بہ وتجدید ایمان حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) الدر المختار، کتاب الذبائح، ج ۹، ص ۴۴۹، دار الكتب العلمية، بيروت کرے اور اگر بہ طور دشنام کہا تو سخت گناہ کا مرتکب ہوا۔ تو بہ کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم ذیقعدہ ۱۳۹۹ھ