وہابی پیر کے مرید سے تعلق رکھنے والے شخص سے میل جول کا حکم
کیا وہابی پیر کے مرید سے تعلق رکھنا جائز ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید سنی ہے اور حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت ہے۔ بکر جو زید کا ہم زلف ہے یہ بھی سنی ہے مگر عمرو جس کا پیر وہابی ہے انشر فعلی تھانوی کو اپنا پیشوا جانتا ہے۔ عمرو اپنے پیر وہابی سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا اور نہ رجوع کرتا ہے۔ زید کا ہم زلف بکر جو عمرو سے میل جول رکھتا ہے یہ کیسا ہے؟ اور زید بکر سے مل سکتا ہے یا نہیں ؟ حکم شرع سے مطلع فرمائیں ۔ فقط والسلام زید کے خسر بکر سے مل سکتے ہیں یعنی اپنے داماد سے ایسی حالت میں زید اپنے خسر سے مل سکتا ہے یا نہیں؟ المستفتی: فراست حسین قصبه فرید پور محله اونجا بریلی شریف
الجواب: اشر فعلی تھانوی دیوبندیوں کے ان طواغیت اربعہ سے ایک طاغوت ہے جنہیں علمائے حرمین شریفین و مصر و شام و ہندو سندھ کے علماء نے ایسا کافر و مرتد و بے دین کہا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے تو جو انہیں دینی پیشوا جانے وہ کیونکر کافر نہ ہوگا حالانکہ علماء فرماتے ہیں کہ کافر کو تعظیما سلام کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ در مختار میں ہے: ”لو سلم على الذمى تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر یہاں سے عمرو اور اس کے پیر کا حکم ظاہر ہو گیا کہ دونوں کافر مرتد بے دین ہیں اور کافر تو کافر مبتدع جس کی بدمذہبی حد کفر تک نہ پہنچی اور مسلمان فاسق کی صحبت بنص قطعی قرآن عظیم حرام بدکام بد انجام ۔ قال تعالى : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الَّذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ یعنی اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ ۔ تفسیر احمدی میں ہے: ان القوم الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع زید کو بکر سے میل جول منع ہے جب تک بکر وہابی سے ملنے سے تو بہ نہ کر لے۔ زید اس سے نہ ملے۔ خسر پر بھی بکر سے میل جول حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵/ذیقعده ۱۴۰۰ھ