وہابی قصائیوں کے لیے سنی حافظ کا جانور ذبح کرنا اور اجرت لینے کا حکم
کیا وہابی اگر کسی سنی سے ذبح کرائے تو یہ ذبیحہ جائز ہے؟ اور اس سے ذبیحہ پر ذایج کا اجرت لینا حلال ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ: سرزمین رام نگر منڈی ضلع نینی تال میں وہابیوں اور سنیوں کے درمیان جھگڑا ہونے کے باوجود سنی لوگوں نے وہابی قصائیوں کے ہاتھ کا گوشت کھانا بند کر دیا کیونکہ سنی علماء نے ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اس لئے ان کا گوشت بہت کم بکتا ہے۔ اس لئے ان وہابی قصائیوں نے ایک سنی حافظ صاحب کو لے جا کر ذبح کرانا شروع کر دیا ہے۔ تو ان کا گوشت بھی اب خوب بکتا ہے اور اس ذبح کرنے والے حافظ صاحب کو وہ لوگ پچاس پیسے ایک بھینس کے ذبح کرنے پر دیتے ہیں اور سنی لوگ بھی پچاس پیسے ہی دیتے ہیں آپ سے گزارش ہے کہ وہ پیسہ لینا حافظ صاحب کو درست ہے یا نہیں ؟ جواب سے مطلع فرمائیں۔ المستقلتی سلیم الدین احمد جے پوری، مدرس گلشن خوشی، نینی تال، یوپی
الجواب: وہابیہ زمانہ کہ اپنے مقتدا یان دیوبند پر سر منڈائے بیٹھے ہیں اور یہ بات ہر خاص و عام جانتا ہے کہ ان کے دیو بندی مقتداؤں نے خدا کو کاذب بالفعل مانا ( دیکھو فتاوی گنگوہی ) بی کریم سی ان ہی نہم کی تنقیصی شان کی شیطان کی شان اپنے زعم میں بڑھائی (دیکھو برا این قاطعہ )(1) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علم جیسا علم ہر بچہ پاگل جانور چوپائے کو حاصل ہونے کی تہمت لگائی ( دیکھو حفظ الایمان ) (۲) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ختم نبوت زمانی کا طرح طرح سے انکار کیا یہاں تک کہ آپ کے بعد یا آپ کے زمانے میں نبی جدید کا آنا خاتمیت محمدی میں مخل نہ جانا (۳) اس بنا پر علمائے حرمین شریفین نے انہیں ایسا کا فر بتایا کہ جوان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے خود کافر ہے۔ ” من شک فی کفره و عذابه فقد کفر “(۲) لہذا اس جگہ کے وہابیہ اگر عقائد کفریہ دیوبندیہ رکھتے یا عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کے قائلوں کو کافر نہیں جانتے ( اور یہی ظاہر متبادر ہے ) تو وہ بلا شبہ کا فرمرتد ہیں اور مرتد سے بحکم حدیث مصطفی علیہ التحية والثناء کوئی معاملت جائز نہیں۔ حافظ مذکور جو آٹھ آنہ پر بھینس ذبح کرتا ہے وہ پیسے اس کے لئے حلال نہیں ۔ پھر اگر وہ ذبح کر کے چلا آیا اور خریدتے وقت وہ گوشت نظر مسلم سے غائب رہا تو اس گوشت کے خریدنے والے سب اشد گنہگار ہیں سب پر تو بہ لازم اور ایسا گوشت جو ان سے خریدا وہ مردار ہے کہ اس کا کھانا جائز نہیں اگر چہ سنی حافظ مذکور نے ذبح کیا ہو۔ تو اب اعتماد اس گوشت کے بارے میں انہیں مرتدین پر ہوا اور حلت و حرمت وغیرہ دینی امور میں کا فرتو کا فر فاسق کی خبر پر اعتماد جائز نہیں۔ قال تعالى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا (ه) اور اگر وہ ایسے وہابی نہیں نہ دیو بندی عقائد رکھتے ہیں نہ ایسے عقیدے والوں کے کفر میں شک کرتے ہیں مگر غیر مقلد ہیں کہ تقلید کو شرک کہتے اور مسلمانوں کے مسائل فرعیہ مثل ایصال ثواب وغیرہ پر اعتراض رکھتے ہیں جب بھی ان سے مخالطت و معاملت منع ہے۔ کہ ہمارے ائمہ کرام فقہائے عظام نے ایسے کو بھی کافر کہا ہے۔ اگر چہ ائمہ متکلمین احتیاطاً ان کی تکفیر نہیں کرتے اگر چہ تو بہ وتجدید ایمان کا حکم احتیاطاً وہ بھی مثل فقہاء دیتے ہیں بہر کیف دونوں صورتوں پر وہابیہ سے معاملت ناجائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله