تیجہ کا کھانا، بعد نماز صلاۃ وسلام کے اشعار اور دیوبندیوں کے متعلق سوالات
وہابیہ کو ابھی جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ اور انشاء کے اقسام معلوم نہیں مگر اعتراض کے لئے منہ بڑا سا کھول دیتے ہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) میت کے تیجہ کے دن عام مسلمانوں اور آنے والے رشتہ داروں اور میلاد خواں اور امام صاحب کو میت کے اہل خانہ کی دعوت دینے پر کھانا کھانا چاہئے یا نہیں؟ (۲) کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا کہ بعد از نماز کھڑے ہوکر صلاۃ وسلام پڑھنایا مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام“ کے اشعار پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ پڑھتے ہیں ایک سلام اور بتلاتے ہیں، بھیجتے ہیں، کہتے ہیں لاکھوں سلام، اس کا پڑھنا جائز نہیں۔ جو حکم شرع ہو تحریر فرما ئیں! (۳) نیز کہتے ہیں کہ آج تک کسی دیو بندی مولوی نے حضور کی کوئی تو ہیں نہیں لکھی وہ کتابیں سنیوں نے خود بنالی ہیں، دیوبندیت مذہب کا نام نہیں بلکہ ایک اسلامی تحریک اشاعت اسلام وخدمت خلق کا نام ہے، بریلی والوں کا مذہب جدید ہے، گیارہویں شریف وغیرہ کو بھی شرک و بدعت بتاتے ہیں شرع مطہرہ کی روشنی اور قرآن وحدیث سے مذکورہ بالا سوالات کے جوابات تحریر فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ السائل: محبوب خان، موضع شاہ پور ڈانڈی، گردھر پور، بریلی قاری محمد انوار الحق مصطفوی ، ساکن قصبه دنکا، بریلی
الجواب: (1) میت کی طرف سے تیجہ، دسواں وغیرہ کا کھانا فقراء مسلمان کو کھلانا اور اگر میت بزرگان دین سے ہو تو غنی وفقیر سب کو کھلانا جائز ہے اور کھانے کی دعوت دینا منع ہے کہ دعوت ایام فرح وسرور میں مشروع ہے نہ کہ غم میں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲، ۳) جائز و مستحسن ہے اور اس کے جواز واستحسان کے لئے آیت کریمہ يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً سورة الاحزاب: ۵۶ پھر تمام دیار میں اس پر اہل سنت کا عمل بس ہے حدیث میں ہے: مارآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن جسے مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ اور مانعین کے پاس دلیل منع کوئی نہیں تو انہیں بزور زبان منع کرنا حرام اور ان امور کو جو کچھ وہ کہتے ہیں اس کے خود ہی مصداق ہیں اور لاکھوں سلام پر وہ اعتراض کہ درج سوال ہوا محض جاہلانہ ہے۔ حضور علیہ السلام پر درود بھیجنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور ہمارا درود وسلام بھیجنا از قبیل دعا ہے تو ہم خدا سے عرض کرتے ہیں کہ اے رب اپنے نبی پر لاکھوں سلام بھیج۔ وہابیہ کو ابھی جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ اور انشاء کے اقسام معلوم نہیں مگر اعتراض کے لئے منہ بڑا سا کھول دیتے ہیں اور وہابیہ کا اہانت حضور علیہ السلام سے انکار اور اس کی تہمت ہم سنیوں پر رکھنا بہتان ہے جو عیاں ہے۔ آج تک تحذیر الناس، حفظ الایمان، براہین قاطعہ ورسالتہ الامداد میں اہانت آمیز عبارتیں چھپ رہی ہیں اور ان پر جابجا دیو بندی مناظرے کرتے ہیں پھر بھی مکر جاتے ہیں یہ ان کی کمال بے حیائی ہے اور سنیوں پر مذہب جدید کی تہمت افترا ہے اور گیارہویں وغیرہ کو شرک بتانا خود شرک اوڑھنا ہے کہ ہمارا خدا گیارہویں بارہویں وغیرہ سے پاک ہے کہ وہ پیدا ہونے اور وفات پانے سے منزہ ہے اور گیارہویں کو دیابنہ شرک کہتے ہیں تو آپ ہی اپنے خدائے مزعوم کو وہ کہتے ہیں اور کروڑوں امثال و نظائر اس کے لئے ثابت کرتے ہیں۔ تعالی الله عما يقول الظالمون علوا کبیرا ۔ اور گیارہویں کو بدعت محرمہ بتانا محض دعوی زبانی ہے جو نا قابل سماعت ہے۔ بچے ہیں تو دلیل ممانعت قرآن وحدیث سے لائیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ذیقعده ۱۴۰۱ھ المقاصد الحسنة للسخاوی ، حدیث ۷ ۹۵ ، حرف الميم، ص ۴۲۲ ، برکات رضا