غیر مذہب کے لوگوں سے میل جول اور شیعہ کے ماتم میں خاموش کھڑے رہنے کا حکم
قرآن، اصحاب ، اہل بیت ، نائب رسول کا دل سے قائل ہے اور ان پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں اس رب کو جانتا ہوں جس کا لقب رب العلمین ہے۔ اور اس رسول کی امت میں ہوں جو رحمتہ للعالمین بن کر اس دنیا کے لئے اللہ کی طرف سے آیا۔ عمر و ہر مذہب وملت کے عقائد کے اور حکومتی جلسوں میں اپنے عقائد اور ایمان کا خیال رکھتے ہوئے شریک ہوتا ہے “ اور اپنے یہاں بھی اکثر جلسہ کراتا ہے جس میں شیعہ صاحبان بھی شریک ہوتے ہیں اور ذکر حسین کے بعد ماتم کرتے ہیں مگر عمر و اس ماتم میں شامل نہیں ہوتا اور خاموش کھڑا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ شیعہ صاحبان کے ماتم کرنے سے میرے ایمان پر کوئی فرق نہیں آتا۔ میرے رسول سب کے یہاں تشریف لے جاتے تھے اور سب ان کے پاس آتے تھے ، وہ سب سے اخلاق سے ملتے تھے چاہے اس نے اسلام قبول کیا ہو یانہیں ، رسول پر ایمان لایا ہو یا نہیں، دعا سب کے لئے فرماتے تھے ، میں ان کی سنت ادا کرتا ہوں ۔ وہ غیر مذہبوں کی عیادت کو تشریف لے جاتے تھے اور گمراہوں کے لئے دعا فرماتے تھے، میرا ہر نص دوست ہے جو میرے عقیدے میں مداخلت نہیں کرتا۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب وملت اور عقیدہ کا ہو، میں عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ کچھ شر پسند نام نہاد کے مسلمان جو کہ احکام شریعت کی اول سیڑھی سے بھی واقف نہیں ، عمر و پر مسلمان به ایمان نہ ہونے کے الزام لگاتے ہیں اور باجماعت نماز پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں۔ اور عمر و سے اس درجہ بغض رکھتے ہیں کہ عمرو کو اس کے والد سے بھی مندرجہ بالا فعل کی آڑلے کر علیحدہ کر دیا کہ اس کے والد نے عمرو سے کہا کہ تمہارے عقائد صحیح نہیں ہیں تم میری میت کو ہاتھ نہ لگانا میں تم کو اس وجہ سے عاق کرتا ہوں کہ تمہارے یہاں مجلس میں شیعہ آتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں۔ لہذا عرض ہے کہ مندرجہ بالا حالات کے تحت حسب شرع مندرجہ بالا سوالات کا جواب تحریر کرنے کی زحمت گوارہ کریں تا کہ جس غلط فہمی کا شکار سب ہورہے ہیں، وہ صحیح اور درست راستہ اختیار کریں۔ معین نوازش ہوگی! المستفتی عبدالباسط، سہسوانی خوله، پر انه شهر، بریلی شریف
بر تقدیر صدق سوال عمر و بے قید پر یہ احکام ہیں جو تحریر ہوئے ہیں کہ اس کے افعال ناجائز وحرام بد کام بدانجام ہیں۔ حدیث میں ہے: من كثر سواد قوم فهو منهم (۱) جو کسی قوم کا جتھا بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔ یہ وعید شدید تو محض شرکت پر ہے پھر اگر ان کے عقائد باطلہ کی تعظیم کا جنون بھی اس میں شامل ہو تو بلا شبہ کفر ہے۔ ہند یہ وحموی وغیر ہما میں ہے: واللفظ للهندية: "و بتحسين امر الكفار اتفاقا حتى قالو الوقال ترك الكلام عند اكل الطعام حسن من المجوسی او ترك المضاجعة حالة الحيض منهم حسن فهو كافر كذا في البحر الرائق (۲) یونہی انہیں اپنے یہاں مدعو کرنا بھی حرام کہ موالات کفار شرعاً ممنوع و ناجائز و گناہ ہے تو ان کے میلوں ٹھیلوں، جلسوں میں شریک ہونے ، انہیں اپنے یہاں شریک کرنے کی کونسی راہ ہے؟ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے تو ان بد مذہبوں کے بابت جنکی بد مذہبی حد کفر تک نہ پہنچی ہو، فرمایا: فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم، ولا تجالسوهم-الحديث (۳) یعنی ان کے ساتھ مت کھاؤ اور ان کے ساتھ پانی نہ پیو اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ سرکار ابد قرار علیہ التحمية والثنا والسلام کا وہ عمل جو زید بتاتا ہے، ابتدائے اسلام میں بغرض ابلاغ دعوت اسلام تھا پھر جب دعوت عام اور اسلام کی شوکت تام ہوئی ، کفار سے صفح وعفوو درگذر کے احکام نہ رہے بلکہ ان پر سختی اور ان سے مقاطعت و ترک موالات صوری کے احکام نازل ہوئے ۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِم (۴) اے نبی کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ وقال تعالى : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ اللَّهِ كُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) یعنی اگر تجھ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ۔ تفسیرات احمدیہ میں اس آیت کے تحت ہے: ،، يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع (۲) یعنی آیت کا حکم کا فرو فاسق و بد مذہب سب کو عام ہے اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔ اور موالات قلبی تو کبھی جائز نہ ہوئی ۔ قال تعالیٰ: لَا تَجِدُ قَوْمًا تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ - الآية (۳) یعنی تو نہ پائیگا ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں سے محبت ہو۔ وقال تعالیٰ: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (٢) یعنی ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھولے۔ بلکہ جو انہیں دوست رکھے، ان سے قلبی محبت کرے، وہ انہیں کی طرح کا فرٹھہرے۔ یہ معنی خود گزشتہ سے روشن ۔ نیز قرآن فرماتا ہے: وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ (٥) ط (۵) یعنی جو انہیں دوست رکھے وہ انہیں میں سے ہے۔ تو جو انہیں معظم و پیشواو محترم جانے ، ان کے عقائد کی تعظیم کرے وہ کیونکر انہیں کی طرح کا فرنہ ٹھہرے گا۔ یہاں سے عمرو کے خیالات کا حکم ظاہر اور اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح کا لازم ہونا آشکار اور جماعت سے اس کے لئے ممانعت ظاہر ۔ وہ تو بہ صحیحہ و تجدید ایمان کرے، پھر کسی سنی صحیح العقیدہ جامع شرائط بیعت سے مرید ہو کر اجازت لے کر لائق پیری ہوگا اور جولوگ اس کے اقوال وافعال پر معترض ہیں، ان پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۳ ؍ ربیع الاول ، ص ۱۴۰۵ھ الجواب صحیح وصواب والمجیب صحیح ومشاب و اللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی