دیوبندی کے پیچھے نماز کا حکم اور تبلیغی جماعت سے متعلق سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حسب ذیل سوالات کے بارے میں کہ: (1) دیو بند مسلک کے عالم کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیا نمازو ہرائی جائیگی ؟ (۲) بریلوی مسلک والا کوئی اگر تبلیغی جماعت کا سلسلہ جو اس وقت پوری دنیا میں چل رہا ہے (بریلوی عقیدت اور بریلوی مسلک والے ) اگر ان تبلیغی جماعت والوں سے گستاخی سے پیش آئیں اور ان پرلعن طعن کریں اور ان کو مسجد میں نہ ٹھہرنے دیں۔ اور بسترے پھینک دیں تو ایسا کرنے سے وہ غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر ہوتے ہیں تو پھر اس کا کفارہ ان پر کیا عائد ہوتا ہے۔ ان دوسوالوں کا جواب دے کر ممنون و مشکور فرمائیں۔
الجواب: (۱) دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسے کا فربے دین ہیں کہ علمائے حرمین شریفین و مصر و ہندو سندھ نے بیک زبان ان کے لئے فرمایا: "من شک فی کفرہ و عذابه فقد کفر “ یعنی جو ان کے کفر و عذاب میں ان کے کفر پر مطلع ہو کر شک کرے وہ انہیں کی طرح کا فر قطعی ہے۔ دیکھئے حسام الحرمین علی منحر الكفر والمين(1) (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) اور تبلیغی جماعت اسی دیو بندی گروہ کے عقائد باطلہ کی حامل اور ان کے مبلغ جماعت ہے۔ اس کا مقصد اشرفعلی کی تعلیمات بالخصوص وہابیہ کی علی العموم پھیلاتا ہے اور ٹی قوم پیدا کرنا ہے۔ دیکھو ملفوظ الیاس مصنفہ منظور نعمانی سنبھلی، دینی دعوت مصنفہ ابوالحسن علی ندوی اور جب یہ لوگ علمائے حرمین وغیر ہما کے فتوے سے کافر قرار پائے (اور یہ فتاویٰ ایک دنیوی کورٹ میں تسلیم کئے گئے اور اس وجہ سے انہیں اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ سوانح اعلیٰ حضرت مصنفہ حضرت مولانا بدرالدین صاحب بستوی میں طبع ہوا ) تو ان کی نماز اصلا نماز نہیں اور انہیں سنیوں کی مساجد میں آنے کا حق نہیں اور ان کی اقتدا میں نماز باطل محض اور انہیں دانستہ امام بنانا ایمان کھونا ہے۔ قال تعالیٰ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِد الله مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ یعنی اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کریں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل در مختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر واللہ تعالیٰ اعلم۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ۔ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دار الافتاء، ۸۲ /سوداگران، بریلی شریف ۲۵ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ