وہابیوں، دیوبندیوں اور تبلیغی جماعت کے عقائد، امامت اور ان کے ساتھ تعلقات کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) وہابیوں، دیوبندیوں اور تبلیغی جماعت والوں کے عقائد کیا کیا ہیں؟ (۲) اور ان کو مسجد کا امام بنانا اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۳) مذکورہ بالا فرقے والوں کے ساتھ مسلمانوں کو کیسے تعلقات رکھنے چاہئے؟
الجواب: المستفتی: قاضی بھی صفوی، محمله قضیانه، رولی شریف، بارہ بنکی (1) وہابیہ کا عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے، مولوی اسماعیل دہلوی نے رسالہ یکروزی میں اسکی تصریح کی (1) اور ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کی شان کے آگے ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا چوہڑے چمار سے زیادہ ذلیل ہے (۲) اور جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں (۳) اور یہ کہ اللہ کو مان اوروں کو ماننا خبط ہے (۴) اور ان کے نزدیک خدائی اس پہ ٹھہری ہے کہ پیٹر کے پتے گن دے (ہ) اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو پیٹھ پیچھے کی خبر نہیں۔ اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں اور انبیاء واولیاء (1) رساله یکروزی مترجم ص ۱۴۵ ، رساله یکروزی فارسی ص ۱۸ ، ا ،فاروقی کتب خانه ملتان (۲) (ماخوذ از فتاوی رضویه، مترجم، ج ۱۵، ص ۱۸۲ ، ۱۸۱ برکات رضا تقوية الايمان الفصل الاول في الاجتناب عن الاشراک ، ص ۱۳ ، ۱۰ علیمی لوہاری گیٹ لاھور (۳) تقوية الايمان الفصل الرابع ، ص ۲۸ ، علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاهور (۴) تقویۃ الایمان پہلا باب توحید و شرک کے بیان میں ص ۵ علیمی اندرون لاہوری گیٹ لاہور (۵) تقوية الايمان الفصل الخامس ص ۴۰ ، علیمی لاهوری گیٹ لاھور ہماری طرح انسان ہیں اور بندے عاجز دیکھو تقویۃ الایمان ، مولوی اسماعیل دہلوی۔ دیو بندیوں کا عقیدہ ہے کہ شیطان وملک الموت کا علم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زائد ہے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے علم غیب ثابت کرنا شرک ہے جس میں ایمان کا کوئی حصہ نہیں (۱) اور جیسا علم غیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے ایسا علم غیب تو ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے (۲) اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سب سے آخری نبی جاننا عوام کا خیال ہے مگر اہل فہم پر روشن ہوگا۔ کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں۔ حضور کے زمانہ میں یا بعد زمانہ نبوی کوئی نیا نبی آجائے تو خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئیگا (۳) یہ ہیں وہابیہ و دیابنہ کے کبرا کے عقائد جومختصر بالمعنی تحریر ہوئے اور ان کے عوام ان اکابر پر سرمنڈائے ہوئے ہیں اور یہ سب بلا تخصیص عالم و جاہل وہابی دیوبندی اسماعیل دہلوی کی تقویت الایمان پر ایسا سر منڈائے ہوئے ہیں کہ تقویۃ الایمان کا ہر گھر میں رکھنا ان کے طور پر عین اسلام ہے۔ دیکھوفتاوی رشید احمد گنگوہی (۴) اور تبلیغی جماعت دیوبندی گروہ ہے جس کا مقصد اثر فعلی تھانوی کی تعلیم کو عام کرتا ہے۔ دیکھو ملفوظات الیاس۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عقائد مذکورہ بالا کفریہ ہیں خصوصاً دیو بندیوں کے عقائد تو ایسا کفر صریح متعین ہیں کہ علمائے حرمین شریفین و مصر و شام وہند وسندھ نے حسام الحرمین و الصوارم الہند یہ میں فرمایا: من شک فی کفره وعذابه فقد کفر “(۵) (1) براهین قاطعه، خلیل احمد انبیٹھوی ، ص ۱۲۲، کتب خانه امدادیه (۲) حفظ الایمان ص ۱۵، مطبع دار الكتاب (۳) تحذیر الناس قاسم نانوتوی ، ص ۴۰، مطبع فیصل پبلیکیشنز (۴) فتاوی رشیدیه ، باب شاہ اسمعیل کے مختصر حالات ، ص ۸۰، جسیم بکڈپو دهلی (۵) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ ) یعنی جو دانستہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے اور کافر کو امام بنانا تو بہت بڑی تعظیم ہے۔ علمانے تو کا فرکوتعظیماً سلام کرنا اور اسے استاذ کہنا کفر بتایا۔ در مختار میں ہے: ”لو سلم على الذمى تبجيلا يكفر لان تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسی یا استاذ کفر (۱) یہاں سے انہیں جان بوجھ کر امام بنانے کا حکم ظاہر اور ان کی اقتداء میں نماز باطل محض ۔ کفایہ میں ہے: والكافر لاصلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل “(۲) (1) ان سے میل جول اور ان سے شادی بیاہ اور ہر معاملہ حرام ہے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان ہے: فلاتجالسوهم ولاتشاربوهم ولاتواكلوهم ولاتناكحوهم (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ