اشرف علی تھانوی کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کی تعظیم کرنے والے کا شرعی حکم
ص ۱۳۶ کی سطر ۲۹ پر لکھا ہے۔ حضرت حکیم الامت عظیم البرکت مولا نا مولوی حافظ حاجی شاہ اشرفعلی صاحب قبلہ مدظلہم العالی تھانوی نے نکاح پڑھا ہے ( زید کا ) ۔ اور اسی کتاب کے ص۱۶۶؎ پر (بقیہ حاشیہ ۱ار کا ) میں لکھا ہے کہ دو ہزار انبیاء علیہم السلام اولیائے کرام آئے اور چلے گئے تو بظاہر ان کے نام ونشان تک کا پتہ نہیں ۔ اور اس کے بعد اگلی سطروں میں لکھا ہے۔ یہ عرس و عروس زیب وزینت شان و شوکت چراغاں وغیرہ شکوہ اسلامی دیدہ زیبی و راحت رسانی خلائق کے لئے ہے اس سے ان ارواح مقدسہ کو کچھ فائدہ نہیں۔ اس کے علاوہ زید کی ایک دوسری کتاب ازالہ عمل معه دل افروز دستور العمل ( مطبوعہ ہمدرد پریس ، سہارنپور، یوپی) کے صفحہ ۱۳ر پر لکھا ہے۔ غالباً یہ حضرت مولانا اشر فعلی صاحب تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی رعایت تھی۔ زید مدرسہ دیو بند کا تعلیم یافتہ ہے اشر فعلی تھانوی کے کفریات پر مطلع ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مندرجہ بالا عبارات کی بنا پر زید کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ ، زید کے مریدوں اور زید کو بزرگ اور پیشوا جاننے والوں کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر فی الواقع زید نے اشر فعلی تھانوی علیہ ما علیہ کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کے لئے وہ کلمات تجمیل و تعظیم و ترحم کے لئے لکھے تو وہ خود کا فر بے دین ہے کہ ان الفاظ سے صاف ظاہر کہ وہ اشر فعلی کو مقتدائے دینی جانتا ہے اور یہ غایت تعظیم ہے اور کافرکی ادنی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر ) بلکہ اسے مسلمان جاننا بلکہ اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ۔ حسام الحرمین میں ان دیابنہ کے متعلق علماء حرمین محترمین نے حکم کفر فرمایا: ،، من شک فی کفره وعذابه فقد کفر (۲) اور زید نے جو آداب اس بیدین کے لئے ملحوظ رکھے ان کا صاف مفاد یہ ہے کہ وہ مسلمان بلکہ اسے مسلمان کا مقتدا جانتا ہے تو اسی کی طرح مرتد بے دین ہے۔ اور لائق پیری نہیں بلکہ جو اس کے اس (1) الدر المختار كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۲، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) حال بد پر مطلع ہو کر اسے پیرومرشد جانیں ان لوگوں پر تو بہ وتجدید ایمان فرض اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی لازم ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳/ذوالحجه ۴۰۰ ۱۴۰۰ھ