تبلیغی جماعت کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم
تبلیغی جماعت والے کافر مرتد بے دین ہیں! حضرت علامہ مفتی اختر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ ! السلام عليكم کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: تبلیغیوں کی اقتداء میں نماز ہوگی یا نہیں؟ بالتفصیل وجوہات و کتب کے حوالہ جات کے ساتھ دار الافتاء کی مہر اور ادارہ کے دوسرے علمائے کرام کے دستخطوں سے فتویٰ مزین فرما کر جواب شافی و کافی مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: غلام مرتضی اشرفی متهم دار العلوم نور سید رضویه کھڑا کی محلہ، ورن گاؤں تعلقہ بھساول ضلع جلگاؤں ، ایم۔ پی
الجواب: تبلیغی جماعت دیو بندی گروہ ہے اس کا مقصد اشرفعلی تھانوی کی تعلیم کو عام کرنا ہے اور دیوبندی علمائے حرمین شریفین کے فتویٰ سے اپنے کفریات کے سبب ایسے کافر مرتد بیدین ہیں کہ جو ان کے کفرو عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین (۱) اور کافر ومرتد کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) تو تبلیغیوں کی اقتدا میں نماز کیونکر درست ہوگی بلکہ تبلیغیوں کو دانستہ امام بنانا ایمان کھونا ہے کہ یہ ان کی غایت درجہ تعظیم ہے۔ اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ درمختار میں ہے: ’’تبجیل الکافر کفر (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ