وہابیوں کا شعار سر منڈانا اور گدھے کی سواری کا حکم
اور سرمنڈانے والے کو وہابی سمجھا جائے اور حج میں جانے والے سنی صحیح العقیدہ کو سر منڈانے سے منع کیا جائے تاکہ وہابیوں سے مشابہت نہ ہو؟ (۲) کیا گدھا کا فروہابیوں کی مخصوص سواری ہے؟ یا اللہ تعالی نے گھوڑا ، خچر، گدھا سواری و زینت کے واسطے پیدا کیا ہے اور مومنین بھی اس پر سواری کر سکتے ہیں؟ (۳) کیا انبیاء علیہم السلام و ہمارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی گدھے کی سواری کی ہے۔ (۴) اگر زید کے یہ دونوں قول درست نہیں ہیں اور ایسی حدیث نہیں ہے کہ جس میں حضور اکرم نے سر کو منڈانا وہابیوں کی نشانی بتائی ہو، اور گدھا کافر وہابیوں کی سواری نہیں بلکہ مومنین بھی سواری کر سکتے ہیں تو زید کے لئے کیا حکم ہے؟ براہ کرم جواب عنایت فرما کرعنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی: عبدالحمید خاں شیگن پور معرفت احمد میاں رضوی بانسمنڈی، کانپور
الجواب: (1) ہاں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے خبر دی کہ ذوالخویصرہ تمیمی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلوں سے نہ اترے گا اور روزہ نماز ایسا کریں گے کہ مسلمان ان کے روزہ نماز کے آگے اپنی نماز روزہ کو بیچ گمان کریں گے مگر دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ انہیں کی پہچان بتائی ہے: سيماهم التحليق ان کا شعار سر کے بال منڈانا ہوگا۔ یعنی یہ ان کی عادت مستمرہ ہوگی جس کے ذریعہ ان کو پہچانا جائے گا چنانچہ اس خبر صادق کا مصداق ظاہر ہوا اور ہر زمانے میں خوارج ( جس کا نیا روپ یہ وہابی ہیں بلکہ یوں کہئے کہ ان کا نیا نام وہابی ہے ) کے اعیان کا طرہ امتیا ز سر منڈا نا رہا۔ مجمع السجار میں ہے: هؤلاء جعلوا الحلق شعارهم وكان لجميع اعيانهم فی جمیع از مانهم یہاں تک کہ محمد بن عبد الوہاب نجدی نے اس میں اتنا غلو کیا کہ اپنے مزعوم دین میں داخل ہونے والی عورت کو بھی حکم دیتا کہ وہ سر منڈا میں تو ایک عورت نے اس سے کہا کہ تو مردوں کو داڑھیاں منڈانے کا حکم بھی دے۔ دیکھو الاعلام با علام بلد الحرام لزینی دحلان قدس سرہ “ اور یہ ان کے جہل اور جماہیر صحابہ و تابعین کی مخالفت بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی سنت کے خلاف کی کھلی شہادت ہے اور نصرانی راہوں سے مشابہت ہے، چنانچہ اسی مجمع البجار میں فرمایا : جعلوه علامة ترك الزينة شعاراً ليعرفوا به كفعل رهابين النصارى وهذا جهل بما يزهد فيه وما لا يزهد فيه وابتداع في الدين فلم يروعن واحد من الصحابة والتابعين فما حلقوا فی غیر احلال وحاجة (1) اور جب یہ فعل وہابیہ کا شعار ہو گیا تو اگر چہ فی نفسہ مباح ہے مگر اندیشہ تہمت کے سبب ہمیشہ سے احتراز ضروری ہے اور حج میں حلق سے منع نہ کیا جائے گا کہ مامور بہ ہے اور کسی بد مذہب کا شعار نہیں کہ تہمت کا اندیشہ ہو اور سنت صحابہ و تابعین بھی ہے کہ حج سے فراغ یا کسی حاجت کے وقت وہ حلق کرتے تھے نہ کہ ہمیشہ کمامر اور سرمنڈانے والے کے عقیدہ کی تحقیق کی جائے۔ بغیر تحقیق اسے وہابی نہ جا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مومنین کو اس پر سوار ہونا مباح۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں اور بعض انبیاء کی نسبت بھی معلوم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) پہلی بات ٹھیک کہی اور دوسری غلط کہی ، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری (1) مجمع بحار الانوار ، باب الحاء مع اللام، ج ۱، ص ۵۴۳ ، دار الایمان