تبلیغی جماعت کا اہل سنت کی مساجد میں داخلہ، سلام اور نکاح کا حکم
جامع مسجد میں تبلیغی جماعت کے افراد کا حلقہ کرنا، قیام طعام، بیان وغیرہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ ایک مرتبہ ایک تبلیغی جماعت کے فرد نے اہل سنت کے فرد پر حملہ کیا اور اہل سنت کے فرد کے ناک اور منہ سے خون نکال دیا تو اہل سنت کو ممنوع قرار دینے کا موقع دستیاب ہوا یہ لوگ پھر شرارت پر آمادہ ہوئے اور کہتے ہیں کہ ہمارے علماء کو بیان کرنے سے کیوں روکتے ہو؟ اس لئے بڑی ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ذیل میں درج کردہ سوال کا جواب درکار ہے۔ پروردگار آپ کو حبیب پاک کے وسیلہ سے در دین و دنیا کافی اجر وثواب عطا فرمائے اور اہل سنت و جماعت آپ ہی کے فیض سے فیض رسان رہے۔ (1) تبلیغی افراد کو اہل سنت و جماعت کی مساجد میں نماز کے لئے داخلہ کہاں تک جائز ہے؟ (۲) ان لوگوں کو سلام کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ سلام کریں تو جواب دینا جائز ہے یا نہیں؟ ان کی تجہیز و تکفین میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ ان کی لڑکیوں کو نکاح میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم اپنی لڑکیاں ان کے لڑکوں کو دے سکتے ہیں؟ ان کی دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: تبلیغی جماعت والے دیوبندی ہیں اور ان کی تبلیغ حقیقیہ دیو بندیت کی تبلیغ ہے بانی تبلیغی جماعت الیاس کاندھلوی کے ملفوظ میں صاف ہے ” حضرت مولانا اشر فعلی صاحب تھانوی نے بڑا کام کیا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی عام ہو اور تبلیغ میری۔ [ملفوظ الیاس کا ندھیلوی ] اور دینی دعوت میں تو صاف تر کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک صلاۃ ہے واللہ تحریک صلاۃ نہیں بلکہ ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے ۔ [ دینی دعوت ] یہ دونوں عبارتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تبلیغی جماعت اثر فعلی کی وہی تعلیم جو اس نے حفظ الایمان میں دی کہ ایسا یعنی حضور جیسا علم تو ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے حاصل ہے اور دوسرے علماے دیو بند رشید و خلیل و قاسم نانوتوی کے عقائد کفریہ کو عام کرنا چاہتی ہے اور نماز کا صرف نام لیتی ہے مقصد اصل وہی ہے لہذا انہیں اپنی مساجد میں آنے دینا جائز نہیں اور ان سے سلام و کلام کرنا، تجہیز وتکفین میں شرکت کرنا ،شادی بیاہ کرنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم