وہابی دیوبندی کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا حرام ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (۱) دینی و دنیوی انفرادی و اجتماعی معاملات میں وہابیوں اور دیوبندیوں کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا گفت و شنید اور ان سے کسی بھی طرح کے تعلقات کو استوار رکھنا از روئے شرع کیسا ہے؟ (۲) اگر کوئی سنی وہابیوں اور دیو بندیوں سے تعلقات قائم رکھے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) دیوبندیوں اور وہابیوں کو اپنی کمیٹی میں شامل کرنا یا ممبر بنانا یاکسی معاملے میں فیصل بنانا کیسا ہے؟ اور جو ایسا کرتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۴) کوئی بھی سنی دیو بندیوں اور وہابیوں کو اپنا بھائی برادر اور رشتہ دار سمجھ کر ان کو دعوت کرے اور رواداری اور جذ بہ عہد روی کا اظہار کرے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا المستفتی : اللہ بخش ، متولی مسجدسٹی، بریلی
الجواب: (۴،۳۲۱) حرام حرام حرام اشد حرام بد کام بد انجام ہے۔ قال تعالیٰ: فَلا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ ۔ تفسیر احمدی میں ہے: ان القوم الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعودمع كلهم ممتنع “(۲) یہ حکم کا فر ، فاسق اور بدعتی سب کا ہے۔ ان سب کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی