دیوبندیوں کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر جو انہیں کافر نہ سمجھے وہ خود کافر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : جو دیو بندی کو کافر نہ سمجھے، اس کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کو کافر کہنا کیسا ہے؟ جو لوگ نہ مانیں اس بات کو کہ دیو بندی کا فر ہے، ان کے بارے میں کیا حکم ہے ان سے میل ملاپ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں نرمی سے اس کے ساتھ برتاؤ کرو۔ ( برائے کرم جواب ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں شائع کر دیں) خاکپائے مفتی اعظم ہند سید بدر عالم نازاں رضوی
الجواب: دیو بندیوں کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر جو انہیں کا فرنہ سمجھے، خود کا فر ہے۔ علمائے حرمین شریفین نے ان کے لئے فرمایا: ،، من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۳) نظر کے دیو بندیوں کے ساتھ محنتی ہی لازم ہے۔ قال تعالى : أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (۱) جو بہک گیا ہو اور وہ فہمائش سے باز آجائے اس کے ساتھ فہمائش میں نرمی چاہیے۔ کٹر دیو بندیوں سے نرمی کے جو قائل ہیں تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی