محرم الحرام، زیارت مزارات، ایصالِ ثواب اور مخالفینِ اہل سنت کے اعتراضات کے جوابات
(۵) محرم شریف میں شہیدان کر بلا کا شہادت نامہ پڑھنا سننا اور شربت بنا کرلوگوں کو پلا نا جائز ہے یا نہیں؟ (1) بزرگان دین کی زیارت کے لئے درگاہ شریف جانا، مزاروں پر پھول چڑھانا اور ایصال ثواب کی نیت سے مٹھائی یا کھانا پکا کر غر یہوں کو کھلانا جائز ہے یا نہیں؟ (۷) میت کی ڈولی ( پنجری ) پر پھول کی چادر ڈالنا اور میلا د پڑھتے ہوئے قبرستان تک لے جا کر میت کی نماز اور کفن دفن کے بعد دعاو درود کے ساتھ فاتحہ پڑھنا بھی جائز ہے یا نہیں؟ (۸) بزرگان دین کے عرس کی روشنائی میں شریک ہونا اور کچھ خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (1) سنی جماعت کی مسجد میں اگر کوئی تبلیغی ، اسلامی یا اہل حدیث والوں کی کتاب پڑھ کر لوگوں کو بہکانا شروع کر دیا تو اس کو اسی وقت منع کر دینا جائز ہے یا نہیں؟ (۱۰) سنی جماعت کے مخالف لوگ ہمیں یہ کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں جس کام کے کرنے کا حکم یا ذکر نہ ہو تو ویسے کام کا کرنا بالکل ناجائز ہے۔ تو ہم لوگ ان کو کیا جواب دیں؟ اس کا بھی خلاصہ اپنے فتویٰ میں کر دیں۔ خیر! ایم ۔ ایس ۔ مومن پینشنر ہندی ماسٹر پلٹن مسجد ٹرسٹ، بی۔32 ،صدر بازار ،شولا پور
الجواب: (1) بلاشبہ جائز و مستحب ہے جس کے استحباب پر سلف وخلف علماء کا اجماع ہے۔ اجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها الا ان يشوش جهرهم على نائم او مصل أو قارئ اه کذا فی رد المحتار () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہرگز نہیں کہ صلاۃ وسلام کا مانع و منکر گمراہ وہابی یاد یو بندی مرتد بے دین ہے اور وہابیہ بہ قول اکثر فقہاء متعدد اقوال کفریہ سے کا فر ہیں اور گمراہ بددین تو یقینا ہیں ۔ تو نماز ان کے پیچھے صحت وفساد کے درمیان دائر تو فاسد ہی رہے گی۔ ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها ج ۲، ص ۴۳۴، دار الكتب العلمية بيروت فتح القدیر میں ہے: لان صلاته في الوجهين دارت بين الصحة والفسادفتفسد احتياطاً (۱) اور اذان ان کی ہرگز صحیح و قابل اعتبار نہیں ۔ درمختار میں ہے: جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون ومعتوه وصبى لا يعقل قلت وكافر و فاسق لعدم قبول قوله في الديانات (۲) اور دیوبندی تو انکار ضروریات دین اور اہانت خدا و رسول کے سبب ایسے کھلے کا فر ہیں کہ علمائے حرمین شریفین نے فرمایا کہ "من شک فی کفرہ و عذابه فقد کفر (۳) جو ان کے عقائد کفریہ جان کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، دیکھو حسام الحرمین ۔ تو ان کی اقتداء میں نماز باطل محض بلکہ انہیں دیو بندی جان کر امام بنانا کفر ہے کہ امام بنانا ان کی تعظیم اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ شرح فتح القدیر میں ہے: ان الصلاة خلف أهل الاهواء لا تجوز (۴) کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل “(۵) در مختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا‘ملخصاً (1) اسی میں ہے: تبجیل الکافر کفر (۷) (1) فتح القدير كتاب الصلوة باب سجود السهو، ج ۱، ص ۵۳۵ ، برکات رضا (۲) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الاذان ، ج ۲، ص ۶۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ٩٠ ، مطبع رضا اکیڈمی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۴) فتح القدير، باب الامامة، ج ۱، ص ۳۰۴ مکتبه زکریا (۵) شرح فتح القدير مع الكفايه كتاب الصلاة باب الامامة، ج ۱، ص ۳۲۴، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (Y) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الامامة، ج ۲، ص ۳۰۱ ۳۰۰، دار الكتب العلمية، بيروت (۷) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور انہیں مؤذن بنانا بھی حرام اشد حرام بد کام بدانجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سنی صحیح العقیدہ عالم کا لکھا ہوا خطبہ پڑھیں اور بہتر یہ ہے کہ سید نا اعلیٰ حضرت کا خطبہ رضویہ پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مسجد میں کھانا پکانا جائز نہیں ۔ حدیث میں ہے: فان المساجد لم تبن لهذا (1) مسجد میں اس کے لئے نہ بنیں ۔ معتکف کو مسجد میں کھانا جائز ہے جبکہ مسجد کی آلودگی لازم نہ آئے اور موضع جماعت میں تنگی نہ ہو۔ کمافی رد المحتار (۲) لہذا غر با و مساکین جبکه به نیت اعتکاف مسجد میں بیٹھے ہوں انہیں کھلا نا جائز ہوگا اور کھانے اور سونے کے لئے اعتکاف تھوڑی دیر ذکر الہی کے بعد ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جائز و مستحسن ہے اور شہادت نامہ کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ روایات صحیحہ بیان کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز و مستحب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) یہ سب امور جائز ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) ضرور منع کیا جائے بلکہ مسجد سے روکا جائے۔ در مختار میں ہے: ،، ويمنع منه كل مؤذو لو بلسانه (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) وہ جھوٹے ہیں، ناجائز و حرام وہ ہے جسے اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے ناجائز و حرام فرمایا اور اس کے ارتکاب سے منع فرمایا ہو۔ جس سے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا، اسے حرام کہنا اپنے دل سے شریعت گڑھنا ہے۔ (۱) مسلم شریف، کتاب المساجد باب النهي عن نشد الضالة في المسجد الخ، ج ۱، ص ۲۱۰، مجلس برکات (۲) ردالمحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج ۳، ص ۴۴۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الدر المختار باب ما يفسد الصلوة، ج ۲، ص ۴۳۵، ۴۳۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت قرآن عظیم فرماتا ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلٌ وَهَذَا حَرَامٌ اپنی زبانوں سے جھوٹ نہ کہو یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اور فرماتا ہے: لَا تَسْئَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر ان کا حکم ظاہر کر دیا جائے تمہیں بُرا لگے تو اس بات سے صاف ظاہر کہ اللہ نے جن باتوں کا حکم بیان نہ فرمایا وہ اپنے جواز پر باقی ہیں اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ : وَرَهْبَانِيَّةَ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقٌّ رعايتها یعنی نصرانیوں نے رہبانیت کی ایجاد کی ہم نے اسے ان پر فرض نہ کیا تھا ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر انہوں نے انکی رعایت نہ کی جیسا اس کی رعایت کا حق تھا۔ یہ غیر مقلدین اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر ان کے طور پر جس چیز کا حکم خدا ورسول نے نہ دیا وہ حرام ہی ٹھہرتی ہے تو خدا نے ان پر اس رہبانیت کے ترک سے کیوں ملامت فرمائی سب سے یہ فرما تا کہ وہ رہبانیت حرام تھی۔ معلوم ہوا کہ وہ امر نو جو قواعد شرع کا مخالف نہ ہو بلکہ اگر مستحب فی الشرع کے تحت مندرج تو مستحسن بھی ہے اور مستحسن پر مداومت شرعا مطلوب ہے اور اس کی عادت کے بعد اسے چھوڑ دینا موجب ملامت ہے اور یہ کہ بدعت سیئہ ہی نہیں ہوتی بلکہ مباحہ بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے علمائے اہل سنت بالا تفاق فرماتے ہیں کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے اور یہ کہ مباح نیت حسن سے مستحب و طاعت ہو جاتا ہے کمافی الدر المختار وردالمحتار، تو وہابیہ غیر مقلدین کا یہ فتوی قرآن و حدیث و اجماع سب کے خلاف ہے۔ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: وو مارأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن (۱) جسے مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا محفرا ۴ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ لقد اصاب من اجاب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) المقاصد الحسنة للسخاوى، حرف الميم، حدیث ۹۵۷، ص ۴۲۲، برکات رضا