دیوبندی کے جنازہ کی نماز میں شامل ہونے والے پر تو بہ فرض ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: شرف الدین ابن نبی بخش نے ٹرین سے خود کشی کر لی ہے جو مرتے دم تک دیو بندی وہابیوں میں شامل رہا بلکہ سنی مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں دیو بندی اور سنیوں سے فوجداری ہوئی اور فوجداری کے ساتھ سیول مقدمہ بھی قائم ہو گئے شرف الدین اس میں پیش پیش رہا۔ آج سے تقریباً ۴۰ سال قبل جب سنیوں اور دیو بندیوں میں فوجداری مقدمہ ہوا تب سنیوں و مسلک اعلیٰ حضرت کے مطابق متنازعہ قائم
رہتے ہوئے اپنی ایک چھوٹی سی گھیر میں مسجد بنائی اور نماز باجماعت چلتی رہی۔ اس وقت سے شرف الدین دیوبندی کی اقتدا میں نماز پڑھتا رہا اور ان کی ہر تقریب میں کھلم کھلا شریک ہوتا رہا۔ نیز سنیوں کے خلاف تخریب کاری میں دیوبندی کے شریک رہا۔ اس کے اسی فعل کے تحت اسی کے والد نبی بخش مرحوم نے اپنے بیٹے شرف الدین سے اپنا قطع تعلق کر لیا اور اپنی زندگی تک اسکو اپنے سے دور رکھا اور خود بھی اس سے دور رہے اسے کسی تقریب میں بھی شامل نہیں کیا حتیٰ کہ اسی شرف الدین کے والد نے وصیت کی تھی کہ شرف الدین میری تجہیز و تکفین میں شریک نہ ہو اور نہ یہ شخص شریک ہوا۔ سمیع احمد صاحب نے اس شخص کو بذات خود دیو بندی جماعت سے علیحدہ کیا۔ اور سنی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی باوجود اس کے وہ شخص اپنی جگہ قائم رہا دیو بندیوں کے ساتھ شامل رہا، اس کی اقتدا کرتارہا۔ ابھی حال ہی میں اس کے سگے بھائی اور بہنوئی نے دیو بندی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے اور سنی جماعت میں شامل ہونے کو کہا اس پر شرف الدین اپنے بہنوئی جنت حسین سے کہا کہ عظیم الدین میرا بھائی اگر میری جماعت ( دیوبندی جماعت ) میں آنا چاہتا ہے تو آئے ورنہ میں اس کی جماعت ( مرادسنی جماعت ) میں نہیں جاسکتا۔ علیم الدین اور اس کے چھوٹے بھائی شاہد، نادر اس کی ضعیفی پر ترس کھا کر اس کی مالی امداد بھی کرتے رہے۔ اب جبکہ اس نے خود کشی کر لی اس کے ایک بھائی عظیم الدین ( جو سنیوں کے شامل ہیں ) کی بہن کے تینوں بیٹوں نے سنی جماعت کے چند لوگوں سے آ کر کہا کہ اپنے باپ شرف الدین کی وجہ سے ہم لوگ دیوبندی جماعت میں شامل رہے اب ہم لوگ آپ لوگوں کے ساتھ شامل رہیں گے۔ ہمارے باپ کی تجہیز و تکفین و جنازے کی نماز کا انتظام آپ سنی لوگ کرائیں۔ ہم لوگ تو بہ کرتے ہیں کہ اب دیو بندی جماعت میں نہیں رہیں گے۔ شرف الدین کے لڑکے پورے ہوش وحواس کے مالک ہیں بس اتنی بات پرسنی جماعت کی کمیٹی کے چند ذمہ دار نے اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری شروع کر دی ، نظام الدین کو معلوم ہوا تب انہوں نے اعتراض کیا کہ شرف الدین جو چالیس سال تک دیو بندی کی اقتدا کرتا رہا اور ان کی جماعت میں شامل رہا ہے تو بہ مرا ہے۔ محض اس کے بیٹوں کے تائب ہونے سے شرف الدین کی تو بہ نہیں ہو سکتی اور ہم لوگوں کو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہئے ۔ اس اعتراض کے باوجود یہاں ایک سنی مدرسہ کے ایک مولوی صاحب نے حکم صادر کرایا کہ اس کے جنازے کی نماز ہم سنی جماعت