وہابی کی نماز جنازہ پڑھنے، اسے جائز بتانے اور علمائے اہل سنت کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم
جنازہ پڑھانے کیلئے یہ کہکر مجبور کیا جاسکے کہ کہاں لکھا ہے قرآن میں وہابی کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔ واضح ہو کہ یہی محمد شوکت آج سے کچھ عرصہ پہلے اس مسجد میں تبلیغی جماعت کے ٹھہر جانے پر بھی طوفان مچادیا تھا اور امام و متولی کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا کہ آپ لوگوں نے ان وہا بڑوں کو مسجد میں کیوں گھنے دیا ۔ محلے کے مسلمانوں کو گمراہ کرواتے ہیں کہا وغیرہ وغیرہ اور بالآخر عقائد باطلہ کی بنیاد پر وہابی مولویوں کو مسجد سے بھگا کر کے ہی دم لیا مگر زندہ وہابی کو مسجد سے بھگا دینے والا یہ شخص آج مردہ وہابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے شہر سے وہابی امام کو بلایا اور اس وہابی امام کے پیچھے وہابی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھا اور اس بات سے ورغلانے کے لیے کہا کہ کہاں لکھا ہے قرآن میں کہ نماز جنازہ نہ پڑھو۔ بہت سے سنی مسلمانوں نے بھی پڑھا۔ مگر بعد میں ان سنی مسلمانوں نے اس وقت اعلانیہ تو بہ کر لیا جب محمد شوکت قریشی کے چیلنج پر پہلی بار منعقد اسی سلسلے کے ایک جلسے میں علمائے اہل سنت نے وہابیوں کو انہیں کی کتابوں کی کفری عبارتوں سے کافر و مرتد ثابت کر دیا مگر اس پر بھی محمد شوکت قریشی نے تو بہ نہیں کیا۔ بلکہ الٹے ان سنی مسلمانوں کا تو بہ کرانا بھی اپنے حق میں بہت بڑی تو ہین سمجھا جس کے نتیجے میں یہ حض جل بھن کر اس قدر دریدہ دہن ہو گیا ہے کہ آئے دن مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر مسجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے پیش امام کو اور تو بہ کرانے والے علمائے اہل سنت کو ماں بہن کی فحش گالیاں دیتا ہے اور بہت زیادہ ڈینگیں مارتا ہے کہ تمہارا یہ کر ڈالوں گا وہ کر ڈالوں گا نیز وہابی کی نماز جنازہ نہ پڑھانے کی وجہ سے امام کو کا فربھی کہتا ہے اور آئے دن اعلانیہ طور پر شہر کے پیش امام کی شان میں بدتمیزیاں کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مولانا قطب الدین کی ماں بہن کو ایسا ویسا کر ڈالوں اور مولانا عبد المصطفیٰ کی ماں بہن کو ایسا ویسا کر ڈالوں یہ فلاں والے مولانا سالے ایک بار پھر آئیں اور ہم کو دکھا ئیں کہ قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے کہ وہابی کی نماز جنازہ پڑھنے سے ایمان و نکاح سے خارج ہو جاتا ہے۔ نیز یہ شخص اپنی شور پشتی میں اندھا ہو کر ایک بار اس سلسلے میں اپنی مرضی کے موافق ایک تحریر لکھوانے کے لئے پیش امام کو پکڑ کر اپنے گھر میں بند کر کے ان کے ساتھ نہایت ہی ناز یبا قسم کی بدتمیزیاں بھی کر چکا ہے۔ لہذا ایسے ظالم و جابر شخص کے لئے شریعت اسلامیہ کا کیا حکم ہے؟ شریعت اسلامیہ کا حکم ماننے سے انکار کرنے پر شہر فیض آباد کے باغیرت مسلمان محمد شوکت قریشی
الجواب: لمستفتی محمد حنیف، خادم مسجد محلہ گودہ پٹی وشہر کے چند باغیرت مسلمان، فیض آباد فی الواقع حکم شرع یہی ہے کہ وہابیہ اور ہر کا فربے دین کے لئے نماز جنازہ پڑھنا حرام بدکام کفر انجام ہے قرآن کریم نے وہابیہ کے امام و سرغنہ عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا کہ ارشاد ہوا: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ (۱) ان گستاخوں میں جو مر جائے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو اس لئے علماء نے کافر کے لئے دعائے مغفرت کو کفر قراردیا۔ رد المحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر (۲) اور حکم شرع کو عنا دار دکرنا اور علماء کی تو ہین اور انہیں دشنام دینا کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: ،، الاستهزاء بالعلم والعلماء کفر (۳) اس شخص سے وہی برتاؤ کیا جائے جو مرتد سے کرنے کا حکم ہے جب تک تو بہ وتجدید ایمان نہ کرے اسے مسلمان نہ جانیں اور اس سے دور رہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵؍ جمادی الاولی ۱۴۱۲ھ