حرمین طیبین کے بد مذہب ائمہ کے پیچھے نماز ادا کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلے سے متعلق کہ: محمود اس سال حج بیت اللہ کے لئے مکہ معظمہ تشریف لے جارہے ہیں، موصوف عقائد کے اعتبار سے خالص سنی بریلوی عقیدے کے ہیں جیسا کہ لوگوں کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ خانہ کعبہ کے امام شافعی مسلک یا دیوبندی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں تو وہاں پر نماز پنجگانہ باجماعت ادا کرنی ہے۔ تنہا پڑھنے کا سوال نہیں ہوتا ورنہ جماعت کے ثواب سے محرومی ہوگی ۔ تو اب نماز کس طرح پڑھی جائے ؟ امام بدلنے کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اب جب مسجد نبوی سالی یا تم پر حاضری کا شرف حاصل ہوگا تو وہاں بھی بقول مولا نا مجاہد ملت جناب حبیب الرحمن صاحب وہاں کے امام خالص دیو بندی عقیدے کے ہیں۔ تو وہاں جانے پر کس طرح نماز پڑھی جائے جبکہ اس مسجد میں ۴۰ وقتوں کی نماز با جماعت واجب ہے۔ اس کے بارے میں اپنی اولین فرصت میں جواب دینے کی زحمت گوارہ کریں جس سے وہاں پر کوئی پریشانی نہ ہو اور ایمان و عقیدہ سلامت رہے۔ نوٹ: اس کا جواب اسی نامہ پر دینے کی مہربانی کریں۔ المستفتي بصغیر احمد محمد گنیش منبج جھنگن مستگن کی گلی، مرزا پور ، یونی
الجواب: کعبه معظمه و مسجد نبوی کے نام نہاد ائمہ نجدی وہابی بد مذہب ہیں اور وہابیہ کے کفریات میں سے ایک بھاری کفریہ ہے کہ تمام اہلسنت کو کافر جانتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے: كما وقع في زماننا في اتباع عبد الوهاب الذين خرجوا من نجد و تغلبوا على الحرمين وكانوا ينتحلون مذهب الحنابلة لكنهم اعتقد وا انهم هم المسلمون وان من خالف اعتقادهم مشرکون و استباحوا بذالك قتل اهل السنة وقتل علمائهم () اور جوسنی مسلمان کو بے وجہ شرعی کا فر جانے وہ خود کافر ہے کمافی الحدیث تو جو تمام مسلمانان دیار وامصار و اعصار کو کافر جانے وہ بدرجہ اولیٰ کافر ۔ اسی لئے شفا شریف لعلا مہ امام قاضی عیاض میں فرمایا : و کذالک نقطع بتكفير كل قائل قال قولا يتوصل به الى تضليل الامة اور بد مذہب کے پیچھے نماز نا جائز ۔ ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہدایت بنیاد ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز اور کافر کے پیچھے نماز باطل محض ۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل یہاں سے ظاہر کہ مخبری کافر ہیں نہ کہ شافعی اور ان کی اقتد احرام اور نماز ان کے پیچھے باطل ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸/ذیقعده ۱۴۰۰ھ