وہابی اور دیوبندی کتابوں کے خلاف اقرار نامہ پر دستخط کرنے کے حوالے سے سوال
ہوں، جو وہابی ، دیو بندی تبلیغی جماعت کے پیشوا ان کی کتابوں میں اللہ، اللہ کے آخری نبی اور بزرگان عظام کی شان پاک میں بدگوئی اور گستاخی لکھی ہے یہ کتاب نیچے درج ہیں: (۱) تقویۃ الایمان۔ (۲) صراط مستقیم ۔ (۳) تحذیر الناس۔ (۴) براہین قاطعہ ۔ (۵) فتاویٰ رشد یہ۔ (۲) حفظ الایمان۔ (۷) بہشتی زیور۔ وغیرہ کتابوں میں اسلام کے خلاف جو لکھے ان کے کارن ان کی کتنی کتابوں کو کافری کتاب بتا کر مکہ اور مدینہ کے علما اور بھارت کے علما انہیں کافر اور مرتد بتاتے تھے جس کا بیان حسام الحرمین نام کی کتاب میں ہے اور اسے میں بھی مانتا ہوں اور ان کے فتویٰ کے مطابق ان لوگوں کو میں بھی کافر کہتا ہوں جس نے بھی ایسی کتابیں لکھی تھیں اور جو بھی کوئی اللہ کے رسول اور اولیائے کرام کی شان پاک میں کوئی گستاخی کرے اسے میں بھی کافر سمجھتا ہوں اتنا ہی نہیں بلکہ وہابی، دیوبندی تبلیغی جماعت سے میں بہت نفرت کرتا ہوں اور ان سے دور رہنے کا پورے دل سے یقین دلاتا ہوں۔ میرا یہ اقرارنامہ جیسے چاہے ویسے پیش کر سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اعلیٰ حضرت رضا خاں صاحب! آداب عرض گزارش یہ کہ اس خط کے ساتھ ہم اقرار نامہ بھیج رہے ہیں اس پر دستخط کرنے کو ہمارے اوپر زبردستی کر رہے ہیں تو آپ کی کیا رائے ہے۔ اس پر دستخط کرنے سے ایمان کا خطرہ ہے یا نہیں ان میں کتاب لکھنے والوں کو کافر کہا ہے وہ لوگ اگر کافر نہ ہوں گے تو ہمارا کیا ہوگا ۔ آپ کیا کہتے ہو؟ آپ ہمارے ایمان کا یقین دلاؤ سے ہم اگر صحیح دستخط کرنے سے گنہگار نہ ہوں تو ہم کر دیں۔ اس خط کا جواب آپ مہربانی فرما کر بھیجے۔ ساتھ میں اقرار نامہ یہ ہے جس کا ترجمہ پیچھے ہے۔ المستفتی : اشرف اسماعیل، بھنڈی بازار، جام نگر، گجرات
الجواب: فی الواقع وہابی اور بالخصوص دیو بندیوں نے اپنی کتابوں میں وہ عبارتیں لکھی ہیں جو اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کی صریح تو ہین ہیں اور اقرار نامہ میں مندرجہ کتا بیں بے شک کفری عبارتوں پر مشتمل ہیں لہذا د یا ہنہ کو جنہوں نے اللہ و رسول کی صریح قطعی تو ہین کی اور انکار ضروریات دین کے مرتکب ہوئے بتوائے حسام الحرمین کا فر و مرتد ہے دین اور وہابیہ کوگمراہ جانناماننا فرض ہے اور اس میں تردد منافی دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸/ جمادی الاخری ۱۴۰۱ھ