کافر و مرتد سے معاملت، کلماتِ کفر بکنے والے کی نماز جنازہ اور مسجد کیلئے بلیک میں سیمنٹ خریدنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے حق و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید سنی صحیح العقیدہ ہے بکر بد مذہب ہے آیا زید بکر سے بکر کی زمین خریدنا چاہتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ حکومت ہند بکر اور بکر کے والد کو مسلمان ذاتی لکھتا ہے اور پڑھ کر سناتا بھی ہے آیا قانون ہند کے اعتبار سے زید کو اس کاغذ پر دستخط بھی کرنا پڑتا ہے۔ کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا اس کے ضمن میں؟ بینوا توجروا (۲) زید اپنے کو مسلمان کہلاتا ہے اور ( علوم شریعت کا جاہل ہے ) آئے دن کلمات کفریہ بکتا رہتا ہے جب اس سے تو بہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو بہ بھی فورا کرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اسی حالت میں اس کی موت ہوگئی ، عین نزع کے وقت اس کو کلمہ پڑھنے کو کہا گیا مگر وہ نہ پڑھ سکا چه حکم دارد از روئے شریعت مطہرہ اسکی نماز جنازہ پڑھی جائیگی یا نہیں؟ اسے مومنین کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا یا نہیں؟ بینوا توجروا (۳) اس موجودہ دور میں سمنٹ کی بہت قلت ہے تاجر حضرات اسے بلیک سے فروخت کرتے ہیں، قیمت کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ کیا بلیک سے سمنٹ لے کر مسجد میں لگایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
(1) بکر کی بد مذہبی اگر حد کفر تک پہنچی ہوئی ہے تو وہ مرتد ہے اور مرتد سے معاملت ( بیع وشراء وغیرہ) جائز نہیں۔ زید کو اس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید نزع سے پہلے اگر تو بہ صحیحہ کفریات سے کر چکا تھا یعنی بعد تو بہ اس نے کوئی کلمہ کفریہ نہ بولا تو وہ مسلمان مرا، اس کی نماز جنازہ ضرور پڑھی جائیگی اور اگر اس نے کوئی کلمہ کفریہ بولا جس سے اس نے نزع سے پہلے تو بہ نہ کی تو وہ کا فرمرا۔ اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) خط کے ذریعہ بیعت ہونا جائز ہے۔ اور اس کی اصل بیعت سید نا عثمان غنی ہے کہ غائبانہ حضور علیہ السلام نے انہیں بیعت فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ