سید احمد رائے بریلوی کے سلسلے میں بیعت ہونے کا حکم
سید احمد رائے بریلوی کے سلسلے میں بیعت ہونا درست ہے یا نہیں؟ اور جو پیر صاحب احمد رائے بریلوی کے سلسلہ میں بیعت کریں تو وہ اہل سنت ہیں یا بددین؟ رسالہ اعلیٰ حضرت میں مع دستخط علمائے اہل سنت جواب عطا فرما ئیں ، میں بنگلہ زبان میں گندم نما جو فروش پیروں کی تردید کروں گا۔ بینوا توجروا شیخ محمد مستقیم اشرف ضلع مرشد آباد
الجواب: سید احمد رائے بریلوی کے متعلق سیف الجبار مصنفہ علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ میں بہت باتیں ایسی لکھی ہیں کہ جن سے ان کی ذات پر شدید شبہہ پیدا ہوتا ہے اور دیگر کتابوں مثل آفتاب صداقت میں بھی بہت باتیں ذکر کیں جن سے اس کا اسمعیل دہلوی کی تحریک وہابیت کی ہمنوائی کرنا اور دیگر کتاب سے اس کے نام نہاد جہاد میں جو اس نے مسلمانوں سے کیا تھا اس کا ساتھ دینا معلوم ہوتا ہے۔ اور حقیقت حال کو خدا جانتا ہے۔ لہذا ایسے سلسلہ میں بیعت ہونا خلاف احتیاط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم سنی صحیح العقیدہ غیر مشتبہ مشائخ کے سلسلہ میں بیعت ہونا لازم ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله