جو شفاعت محشر کا قائل نہیں، فاتحہ، سلام، قیام اور نیاز وغیرہ کے عدم جواز کا قائل ہو اس کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : جو فرقہ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو شرک و بدعت کہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم شافع محشر کے قائل نہیں اس کو حضرت کیا فرماتے ہیں؟ اور سلام و قیام کا قائل نہیں یا نعرہ رسالت کا قائل نہیں بزرگان دین کے مزار پر جانا فاتحہ پڑھنا نا جائز کہتے ہیں، ان لوگوں سے ربط وضبط و رسوم شادی و بیاہ، کھانا پینا کیسا ہے؟ اور اس کے ہاتھ کا گوشت ذبح کیا ہوا کیسا ہے؟ اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے کہ نہیں ؟ اس کو مفصل تحریر فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آنے پر انگوٹھا چومنے پر مذاق اڑاتے ہیں۔
الجواب: یہ فرقہ وہابیہ ملعونہ ہے جس پر اکثر فقہاء کی جانب سے کفر کا فتویٰ ہے اور گمراہ ہونے میں کلام نہیں اور ان میں فرقہ دیوبندیہ و تبلیغیہ وغیرہ قطعا اجماعا کافر و مرتد ہیں کہ انہوں نے کھلی کھلی اہانتیں خداو رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کی ہیں اور لکھ کر چھاپ بھی رہے ہیں ، ان سے میل جول ،سلام و کلام، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا اور انکا ذبیحہ حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله تفصیل کے لئے حسام الحرمین شریف وزلزلہ وخون کے آنسو د یکھئے۔ فقط صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف