وہابی رشتہ دار کی حمایت اور کونڈوں کی نیاز کی مخالفت پر حکم شرعی
سوال
ایک وہابی کہتا ہے کہ کونڈوں کی نیاز دلا ناخر چہ فضول ہے۔ لہذا اس شخص کو ڈانٹا گیا تو اس کے رشتے دار جو کہ سنی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رشتہ دار کی برائی سننے کے لئے تیار نہیں ہیں لہذا وہ جھگڑا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ از طرف : عبدالعزیز ، بازارصندل خاں، بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: فی الواقع وہابیہ سے میل جول شرعا حرام بد کام بدانجام ہے اور حکم شرع کے برخلاف رسم و رواج پر اصرار حرام در حرام اور اس پر چند غیر محتاط لوگوں کے فعل سے حجت لا نا اور اسے عام علما کی تو ہین کا ذریعہ بنانا عذر گناہ بدتر از گناہ اور وہابی رشتہ دار کے لئے حمیت جاہلانہ یہ سب بیہودہ کام ہیں جن سے شرعا تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم شب ۹/ جمادی الاخری ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۲۴۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
سید احمد رائے بریلوی کے سلسلے میں بیعت ہونے کا حکم
باب: کتاب العقائد
جو شفاعت محشر کا قائل نہیں، فاتحہ، سلام، قیام اور نیاز وغیرہ کے عدم جواز کا قائل ہو اس کا حکم
باب: کتاب العقائد
اتر پردیش صدیقی جماعت میں شمولیت اور حرام کی تحسین کا حکم
باب: کتاب العقائد
کافر و مرتد سے معاملت، کلماتِ کفر بکنے والے کی نماز جنازہ اور مسجد کیلئے بلیک میں سیمنٹ خریدنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
دیوبندیوں کے عقائد کفر یہ پر مطلع ہونے کے باوجود انہیں کافر نہ کہنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد