بلا عذر امام کی معزولی، وہابی کا ذبیحہ، نماز جنازہ اور تین طلاق کے بعد غلط بیانی سے فتوی لینے کا حکم
مرتد کا بچہ مثل مردار کے حرام ہے، تین طلاقوں کے بعد شرعی حکم ، بلا عذر امام کو معزول کرنا جائز نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں کہ: (1) زید سنی صحیح العقیدہ عالم ومسجد کا امام ہے اس کو بغیر کسی شرعی غلطی کے محض ضد کی وجہ سے منصب امامت سے علیحد ہ کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ وقت تقریر امام صاحب سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ جب تک کوئی لطی نہیں ہوگی آپ کو علیحدہ نہیں کریں گے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ غلطی کوئی نہیں ہے مگر زندگی بھر رکھنا ہم پر لازم بھی تو نہیں۔ لہذا انہیں ہٹاؤ اور دوسرا امام رکھو۔ (۲) وہابی کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ اور جن سنیوں نے ذبح کرایا ان کا کیا حکم ہے؟ (۳) وہابی غیر مقلد کے پیچھے نماز جنازہ یا دوسری نماز پڑھنے والوں کا کیا حکم ہے؟ (۴) زید نے اپنی بیوی کو بہت سے لوگوں کی موجودگی میں تین سے زائد طلاقیں دیں سب لوگوں نے اس کا قطع تعلق کر دیا مگر کچھ لوگ زید کو مفتی صاحب کے پاس لائے تب زید نے یہ بیان دیا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں مفتی صاحب نے بیان کے مطابق رجعت کا حکم فرما دیا اب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب فتویٰ آگیا تو اس سے ملنے جلنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس کا گناہ زید پر ہے کہ کیوں اس نے غلط بیان دے کر فتویٰ لیا بلکہ وہ اب اتنے مستعد ہو چکے ہیں کہ جوزید کو نہ بلائے اس کے یہاں جانے سے انکار کرتے ہیں۔ حکم شریعت فرمادیں، کرم ہوگا۔ المستلقی : کبیر احمد رضوی، جوکن پور، چھا، بریلی شریف
(۱) نہیں، یہ جائز نہیں اور شرعاًوہ معزول نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے: لا يصح عزل صاحب وظيفة بلاجنحة (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہابیہ زمانہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب بحکم فقہاء مرتد ہیں۔ لہذا ان کا ذبیحہ مثل مردار کے حرام ہے، اسے کھانا مردار کھانا ہے۔ درمختار میں ہے: ،، لا تحل ذبيحة وثنی و مجوسی و مرتد (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے۔ فتح القدیر میں ہے: ان الصلوة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۳) اور دانستہ جو انہیں امام بنائے اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) فی الواقع اگر زید نے غلط بیانی کر کے فتویٰ حاصل کیا اور وہ تین طلاقیں واقعۂ دے چکا ہے تو اس فتویٰ سے اس کی بیوی حلال نہ ہوگی۔ بلکہ وہ اس کے ساتھ مبتلائے زنا ہے۔ اس پر اس عورت سے علیحد گی فرض ہے۔ ورنہ ہر واقف حال مسلم پر فرض کہ اس سے بدستور علیحد ہ رہے ورنہ یہ لوگ اسی کی رسی میں گرفتار ہوں گے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ