تبلیغی جماعت، عورت کا دودھ پینے والا بکرا اور عجیب الخلقت جانور کے گوشت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام درج ذیل مسائل میں کہ: (1) کچھ لوگ گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو نماز پڑھواتے ہیں اور اپنے اس عمل کو تبلیغ کا نام دے کرسنت رسول بتاتے ہیں۔ ان کی محفلوں میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس انداز سے تبلیغ کرنے کا از روئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ اور ایسے لوگوں کو سلام کرنا کیسا ہے؟ (۲) ایک بکرے کو کسی عورت نے دودھ پلا دیا۔ اب اس بکرے کا گوشت کھانا کیسا ہے؟ اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ (۳) ایک بکرا جس کا نصف حصہ کتے کی شکل ہے اور نصف حصہ بکرے کی مثل ہے۔ اس جانور کو کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: (1) یہ لوگ دیوبندی ہیں جنکا مقصد تھانوی تعلیمات کو عام کرنا اور لوگوں کو دیو بندی بنانا ہے اس جماعت کا بانی صاف کہ چکا " حضرت مولانا اشر فعلی نے بڑا کام کیا میرا جی چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی ہو اور طریقہ تبلیغ میرا ہوتا کہ ان کی تعلیم عام ہو جائے ملفوظات الیاس ] اور تھانوی مثل رشید احمد خلیل احمد و قاسم نانوتوی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسا کا فر ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں دانستہ شک کرے وہ بھی کافر ہے ملاحظہ ہو حسام الحرمین () لہذا، ان سے اور ان کے تبلیغی جلسوں اور ان کی ہر مجلس سے سخت دور رہنا ضروری ہے اور تفصیل کے لئے تبلیغی جماعت کا فریب اور تبلیغی جماعت دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز ہے، اور اس کی قربانی بھی روا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر گوشت کھاتا ہے تو کتا ہے اور حلال نہیں اور اگر بھوسہ یا چارہ کھاتا ہے تو بکرا ہے اور حلال ہے۔ بعد ذبح جو حصہ کتے کے مشابہ ہے، پھینکیں، باقی کو کھانا مباح ہے اور تفصیل مسئلہ در مختار ورد اعتبار میں ہے () واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۴ ؍رجب المرجب ۱۴۰۶ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی