روافض زمانہ عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد بے دین ہیں، مطلقہ ثلاثہ کے ساتھ رہنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و مفتیان دین وملت مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں کہ: (۱) زید نے اپنے گھر تین بوہروں ( روافض کو بلا کر کھانا کھلایا اور ان کو عزت واحترام سے گھر میں بٹھایا اور اپنے چھوٹے بھائی کو جس نے اس رافضی کی لڑکی سے شادی کی اور بھائیوں سے اور گھر والوں سے تقریباً سات ماہ تک چھپایا۔ جب وہ رافضہ حاملہ ہوگئی تو ان پر ظاہر کیا پھر یہ سب بخوشی اس کے گھر گئے اور گود بھرنے کی رسم ادا کی اور بعد وضع حمل اس کو اپنے گھر لے آئے اور لڑکے کا جو اس رافضہ کے شکم سے پیدا ہوا باوجود یکہ ایک سنی رشتہ دار نے مشورہ دیا کہ اس کا نام خلفائے ثلاثہ میں سے (ابوبکر یا عمر یا عثمان ) کوئی نام رکھنا مگر زید نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور اس کا نام سمیر رکھا۔ زید کے ان افعال کی بنا پر شرع مطہر کا کیا حکم ہے آیازیدسنی رہا یا نہیں؟ اور اس کا اپنا نکاح درست و اسلام باقی رہا یا نہیں؟ (۲) زید نے اپنی سگی بہن جو کہ مطلقہ ثلثہ تھی ، جس کو اس کے شوہر نے تقریرا اور تحریرا تین طلاق دی اور بقول ہمشیرہ زید ایسا بارہا ہوتا رہا کہ شوہر ہمشیرہ زید کو تین طلاق دیتا اور وہ شوہر کے ساتھ رہتی مگر آخری بارشوہر نے اس کو گھر سے نکال دیا اور بذریعہ رجسٹری تین طلاق بھیجدی اور ہمشیرہ اپنے بھائی کے گھر آئی مگر زید نے اس ڈر سے کہ بہن کی پرورش کا بار اس پر پڑے گا، اہل قرابت کے منع کرنے کے باوجود کہ یہ لڑکی اب اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے، زید نے اس کو راتوں رات شوہر کے گھر چھوڑا اور وہ دونوں بغیر حلالہ میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں۔ زید کے اس غیر شرعی فعل کی بنا پرزید پر کیا حکم شرعی ہے؟ آیا زید کا خود اپنا نکاح درست و اسلام باقی رہا یا نہیں ؟ اگر زید کے ان غیر شرعی افعال کی بنا پر کوئی رشتہ دارزید سے ترک تعلق کرے اور سلام و کلام بند کر دے تو اس پر کوئی شرعی الزام ہے یا نہیں ؟
الجواب: المستفتی: محمد یوسف سلیم صابون والا ۸۹ ، زکریا، مسجد اسٹریٹ چاول گلی ممبئی۔۹ روافض زمانہ عقائد کفریہ کے سبب کافر و مرتد بے دین ہیں اور مرتد سے عالم میں کسی کا نکاح درست نہیں۔ خواہ اپنے مثل مرتد سے کرے۔ در مختار میں ہے: ،، لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا ) لہذا اس رافضیہ سے نکاح نہ ہوا جتنی قربت ہوئی خالص زناہواز ید کا چھوٹا بھائی زانی ہے۔ زید اس کے فعل سے راضی ہے تو وہ بھی اسی کی طرح سخت گنہ گار مستوجب نار ہے اور روافض کی دعوت کرنا حرام زید پر اس سے بھی تو بہ لازم ہے اور اس کے چھوٹے بھائی پر بھی تو بہ فرض ہے اور اس کی تو بہ یہ ہے کہ وہ رافضی عورت سے فوراً علیحدہ ہو جائے ورنہ سخت گنہ گار مستوجب نار ہوگا۔ اگر یہ لوگ تو بہ نہ کریں تو ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ انہیں چھوڑ دے۔ محض اس وجہ سے زید کی تکفیر نہیں ہو سکتی۔ البتہ اگر یہ ثابت ہو کہ زید نے رافضیہ سے نکاح درست جانا اور کوئی بات منافی ایمان ثابت ہو تو خود اس پر حکم کفر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید اس صورت میں سخت گنہ گار مستوجب نار ہے اور اس کا بائیکاٹ شرعا درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله