وہابیہ، دیوبندیہ اور دیگر گمراہ فرقوں سے میل جول اور ان کے پیچھے نماز کا حکم
بصورت دیگر مذکورہ استفتاء کا جواب شریعت مطہرہ اور تعلیمات اعلیٰ حضرت کی روشنی میں قرآنی آیات واحادیث اور کتب معتبرہ کے حوالوں کے ساتھ عنایت فرما ئیں ۔ کرم ہوگا۔ المستفتی: سید نیاز احمد سمینی همتی و ابراهیم حشمتی و جلیل احمد حشمتی واراکین بزم قادری رضوی حشمتی ، کانپور
الجواب: صورت مسئولہ کا جواب سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے ان کلمات طیبات سے ظاہر ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ وہابیہ وغیر مقلدین و دیو بندی و مرزائی و غیر ہم فرقے آج کل سب کفار و مرتدین ہیں ان کے پاس نششت و برخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگر چہ اپنا باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں۔ قال اللہ تعالی : وَإمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْظن فَلَا تَقْعُد بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (۱) وقال تعالى: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ (۲) ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتا ہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلا شبہ خود کا فر ہے۔ فتاوی بزازیہ و مجمع الانہر و در مختار وغیر ہا میں ہے: ،، من شک فی عذابه و کفره کفر (۳) اور اگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کا فرنہ ہو گا مگر فاسق ضرور ہے۔ اور اسے امام بنانا گناہ اور اسکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب اور معاذ اللہ بالآخر اس پر اندیشہ کفر ہے امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ شرح الصدور میں فرماتے ہیں: ایک شخص رافضیوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا اس کے مرتے وقت لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی اس نے کہا نہیں کہا جاتا پو چھا کیوں؟ کہا کہ یہ دو مشخص کھڑے ہیں کہتے ہیں تو ان کے پاس بیٹا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر کو برا کہتے تھے اب چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے، نہ پڑھنے دیں گئے (1) جب صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بُرا کہنے والوں کے پاس بیٹھنے والوں کی یہ حالت ہے تو یہ لوگ تو اللہ جل و علا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہتے ہیں ، ان کی تنقیص شان کرتے ہیں، انہیں طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں، ان کے پاس بیٹھنے والوں کو کلمہ نصیب ہونا اور بھی دشوار۔ نسأل الله العفو والعافیة_والله تعالى اعلم اه “(۲) ان کلمات مبارکہ سے حق ظاہر ہے اور منسلکہ فتویٰ کی غلطی آشکار ہے۔ مفتی مذکور نے اس فتویٰ سے وہابیہ کے ساتھ نششت و برخاست کو مباح قرار دے دیا اور ان کے فتویٰ سے صاف ظاہر ہے کہ وہابیہ کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں جبھی تو حکم دے دیا کہ بے شک اس دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں۔ گویا مفتی مذکور کے نزدیک وہابیہ کی شرکت اس دعوت میں کوئی امر مانع نہیں بلکہ اس میں شرکت جائز اور اس کا جواز امرقطعی ہے جیسا کہ بے شک سے ظاہر ہے اور جب وہابیہ کی شرکت دوسروں کے لئے اس دعوت میں شرکت سے مانع نہیں بلکہ انہیں وہابیہ کے ساتھ بیٹھنا روا ہے تو پھر میز بان بھی وہابیوں کو بلا کر قصور وار نہیں غایت درجہ یہ ہے کہ وہ خلاف اولیٰ اور ترک مستحب کا مرتکب ہوا جبھی تو مفتی مذکور نے مشورہ دیا کہ ہاں اس کو یہ نہیں چاہئے کہ وہابیوں اور بدمذہبوں کو دعوت دے ۔ مفتی مذکورا گر حرام جانتے تو یوں فرماتے کہ اسے وہابیہ کو دعوت دینا حرام ہے کہ ان کے ساتھ نششت و برخاست حرام ہے مگر ان کے نزد یک اسمیں حرج نہیں معلوم ہوتا ہے لہذا عام اجازت مرحمت ہوئی۔ ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی اعظیم ۔ اور جب انہیں دعوت دینا حرام نہیں تو میزبان پر کیا الزام اور وہ ذمہ دار کا ہیگا ؟ پھر کیوں لکھا؟ لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے فضل کا ذمہ دار ہے۔ بالجملہ فتوی مذکور غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی۔ ۶ صفر المظفر ۱۴۰۸ھ