دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے اور انہیں کافر نہ جاننے پر توبہ و تجدید ایمان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: رمضان المبارک کے مہینے میں افطار کے وقت ایک آدمی میری دوکان پر کھڑے کاروبار کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا کہ افطار کا گھنٹہ بجنے لگا اس نے کہا دو تو کچھ یعنی افطار کے لئے ۔ میرے دل میں ایسا خیال آیا کہ مسلمان نہ سمجھتے ہوئے دے دو ۔ اور ایک چھوہارا دے دیا اور وہ اس قسم کے غلول کا آدمی ہے، کہتا ہے کہ یہ تو مانتا ہوں کہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا کا فر ہے لیکن وہ دیو بندیوں کے مدرسہ سے تعلق رکھتا اور دیوبندیوں کی مسجد میں جمعہ ونماز پڑھنے جاتا ہے ایک روز میں نے پوچھا کہ جن جن لوگوں پر ہمارے اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اللہ علیہ نے کفر کا فتویٰ دیا ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو تو اس نے کہا ایک مدرسہ کے لوگوں نے کفر کا فتویٰ دیا اور دوسرے مدرسے کے لوگوں نے نہیں دیا یہی کہا لہذا مجھے پر کچھ حکم عائد تو نہیں ہوگا۔ المستفتی : محمد یاسین کرانہ مرچنٹ، محلہ پورہ صوفی ، اعظم گڑھ ،مبارک پور، یوپی
الجواب: شخص مذکور پر دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے اور انہیں کا فرنہ جانے کی بنا پر تو بہ وتجدید ایمان اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ اس پر حکم کفر خود اس کے منہ اس کے اقرار سے ہے کہ کہا کہ میں مانتا ہوں کہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور دیو بندیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہیں لکھی ، چھاپی۔ اس لئے علمائے حرمین شریفین نے اپنے فتاویٰ میں ان پر حکم کفرد یا اور فرمایا کہ: وو من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ یہاں شک بعد اطلاع پر یہ حکم تو اسے خود اقرار ہے کہ رسول کی شان میں گساخی کرنے والا کا فر ہے پھر یہ آڑ کیا ہے کہ ایک مدرسہ کے لوگوں نے کفر کا فتویٰ دیا دوسرے مدرسہ کے لوگوں نے نہیں دیا ہے۔ اولا۔ بتائیے کہ کون سنی صحیح العقیدہ معتمد فی الفتویٰ ایسا ہے جس نے ان پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا ہے حضرت شیر بیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خان صاحب علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب الصوارم الہندیہ دیکھئے اس میں تفصیل ملے گی کہ ہندوستان موجودہ و پاکستان کے سبھی علماے کرام نے ان پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ ثمانیا مرتضی حسن در بجنگی معتقد اشرف علی تھانوی علیہ ما علیہما کو خود عبارات دیو بندیاں کے متعلق اشد العذاب میں اعتراف ہے کہ اعلیٰ حضرت اگر ان پر کفر کا فتویٰ نہ دیتے تو خود کا فر ہو جاتے ۔ فلیر اجع ثالثا۔ بالفرض اگر کسی نے ایسا فتویٰ دیا ہے تو اسے کیا مفید کہ یہ تو اپنے منہ اقرار کر کے کہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے: دیو بندیوں کو کافر کہہ چکا اور اس سے اپنے مزعوم فتویٰ کو وو غلط ٹھہر اچکا۔ ولله الحمد السامیہ۔ ایسے شخص کو ہرگز کھجور کھانے کو نہ دینا تھی کہ یہ مداہنت ہے اور مداہنت ، کبیرہ گناہ اور یہ اس کی طرف میلان ہے اور میلان تو مسلمان فاسق کی طرف بھی جائز نہیں۔ (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) قال تعالى: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ظالموں کی طرف بالکل نہ جھو کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے۔ حدیث میں ہے: ”لا تصاحب الامؤمنا ولا يأكل طعامك الاتقی مومن کے سوا کسی کی صحبت نہ پکڑ اور تیرا کھانا پر ہیز گار ہی کھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله